ڈپٹی ڈرگ انسپکٹر محمد فیاض نے کلر سیداں میں کیمسٹ ایسوسی ایشن کے نمائندہ اجلاس سے خطاب

Pinterest LinkedIn Tumblr +

 کلر سیداں (نامہ نگار)ڈپٹی ڈرگ انسپکٹر محمد فیاض نے کلر سیداں میں کیمسٹ ایسوسی ایشن کے نمائندہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے کو انسانیت کی خدمت اور مسیحائی کا شعبہ سمجھا جاتا ہے لیکن جب سے ہمارے معاشرے کو دولت کی ہوس نے جکڑا ہے تب سے اس شعبے کو بھی چند کالی بھیڑوں نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے اور منافع کے لالچ میں آ کر انسانی زندگیوں سے کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اور غیر معیاری ادویات کی فروخت کیساتھ ساتھ اتائی ڈاکٹرز کی جانب سے سادہ لوح شہریوں کو علاج معالجے کے نام پر ان کی زندگیوں سے کھیلا جاتا ہے جو ایک سنگین اور ناقابل معافی جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر معیاری اور جعلی ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹورز کیخلاف کارروائی ہماری ذمہ داری ہے۔ڈرگ ریگولیشن اتھارٹی میں ترامیم کے بعد اب کوئی سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ انہوں نے سٹورز مالکان سے کہاکہ وہ گرمی کی شدت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے فریج کے درجہ حرارت کو مینٹین رکھیں۔صدر کیمسٹ ایسوسی ایشن کلر سیداں محمد رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلر سیداں کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے تیس سے زائد میڈیکل سٹورز مالکان کو مسائل کا سامنا ہے۔میڈیکل ڈسٹری بیوٹر کلر سیداں سے آگے جانے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے انہیں ادویات کے حصول کیساتھ ساتھ ادویات کی وارنٹی میں بھی مشکلات درپیش رہتی ہیں۔ممبر بلدیہ اور فارماسسٹ عاطف اعجاز بٹ نے خطاب کرتے ہوئے میڈیکل سٹورز مالکان سے درخواست کی کہ وہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے زائد المعیاد ادوات خریدنے سے گریز کریں۔سٹورز کی صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں اور اپنے فریج کو ہمیشہ چالو حالت میں رکھیں۔اس موقع پر متعدد میڈیکل سٹورز مالکان نے شکایت کی کہ کئی ماہ گزر جانے کے باوجود بھی ان کے لائسنسوں کی تجدید کا عمل مکمل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے انہیں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔


Share.

Comments are closed.