)تھانہ کلر سیداں پولیس کے زیر حراست ملزم حسن نواز کی نشاندہی پر آلہ ضرب کی برآمدگی کے موقع پر ملزم کے ساتھیوں کی پولیس پارٹی پر فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے زیر حراست ملزم زخمی ہو گیا۔ گ

Pinterest LinkedIn Tumblr +

کلر سیداں (نامہ نگار)تھانہ کلر سیداں پولیس کے زیر حراست ملزم حسن نواز کی نشاندہی پر آلہ ضرب کی برآمدگی کے موقع پر ملزم کے ساتھیوں کی پولیس پارٹی پر فائرنگ کے دوران گولی لگنے سے زیر حراست ملزم زخمی ہو گیا۔ گزشتہ ماہ تھانہ کلر سیداں کی پولیس چوکی چوکپنڈوری میں تعینات کانسٹیبل حسنین اشفاق کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے کے الزام میں ملزم حسن نواز کو پولیس نے گرفتار کیاتھا اور پولیس ملزم کو اس کے آبائی گاؤں میانہ موہڑہ سے آلہ ضرب کی برآمدگی کے بعد واپس تھانے لے کر جا رہی تھی کہ اسی دوران گرفتار ملزم حسن نواز کے ساتھیوں کو بھی اطلاع ہو گئی جنہوں نے پولیس گاڑی کا تعاقب کیا اور ایک ویران جگہ پر پہنچ کرپولیس گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔اس دوران پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی تا ہم گولی لگنے سے ملزمان کا اپنا ہی زیر حراست ساتھی زخمی ہو گیا اور ملزمان موقع سے فرار ہو جانے میں کامیاب ہو گئے۔ادھر مضروب ملزم کے والد نے عدالت میں واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے وکیل کی وساطت سے موقف اختیار کیا ہے کہ میرا بیٹا حسن نواز اس وقت تھانہ کلر سیداں پولیس کے تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر حیدر یعقوب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر ہے۔گزشتہ شب تقریبا ساڑھے 9 بجے کے قریب مجھے اطلاع ملی کہ پولیس میرے بیٹے حسن نواز کو ٹی ایچ کیو ہسپتال کلر سیداں لے کر گئی ہے جہاں سے رابطہ پر معلوم ہوا کہ میرے بیٹے حسن نواز کو پولیس والوں نے بائیں ٹانگ کی پنڈلی پر گولیاں ماری ہیں۔پولیس نے خود میرے بیٹے حسن نواز کو جان سے مارنے کی نیت سے سیدھے فائر کئے تاہم خوش قسمتی سے گولیاں اس کی ٹانگ کی پنڈلی پر لگی ہیں اور پولیس نے خود کو بچانے کیلئے جھوٹی ایف آئی آر درج کر دی۔چونکہ میرے بیٹے حسن نواز کو پولیس کی زیر حراست گولیاں لگی ہیں لہذا میرے بیٹے حسن نواز کو عدالت طلب کر کے بیان ریکارڈ کیا جائے۔

Share.

Comments are closed.