) تھانہ کلر سیداں پولیس کے اے ایس آئی رخسار تعلیم نے مبینہ طور پر اغواء ہونے والی 18سالہ دوشیزہ کو بازیاب کروا لیا

Pinterest LinkedIn Tumblr +

 کلر سیداں (نامہ نگار) تھانہ کلر سیداں پولیس کے اے ایس آئی رخسار تعلیم نے مبینہ طور پر اغواء ہونے والی 18سالہ دوشیزہ کو بازیاب کروا لیا جہاں اس نے مقامی عدالت اپنے خاوند کے ہمراہ پیش ہو کر دفعہ 154 کے تحت بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بتایا کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا گزشتہ دو سال سے افراسیاب نامی شخص کیساتھ دوستی تھی اور میں نے گھر والوں کو بھی بتا دیا تھا کہ میں اسی سے شادی کرونگی مگر والدین اس بات سے انکاری تھے جس پر عدالت نے لڑکی کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد اسے اپنے خاوند کے ہمراہ جانے کی اجازت دے دی جبکہ اغواء کے الزام میں گرفتار ہونے والے باپ بیٹے کو مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا۔یاد رہے کہ مسمی عبدالمجید سکنہ ڈھوک کرنوٹہ نے تھانہ کلر سیداں میں مقدمہ درج کروایا تھا کہ ہم لوگ سحری تیاری کر نے کیلئے اٹھے،بوقت تقریبا 3 بجے، دروازے پر دستک ہوئی تو میری 18سالہ بیٹی مسماۃ (ن)دروازہ کھولنے کیلئے گئی اور اس کے شور کی آواز سن کر میں بھی دروازے کی طرف چلا گیا تو دیکھا کہ چند افراد جن میں عبدالوہاب،محمد بشارت اور دیگر پانچ نامعلوم افراد جو آتشیں اسلحہ سے لیس تھے میری بیٹی کو اغواء کر کے کیری ڈبے میں سوار ہو کر فرار ہو گئے۔ادھر ہفتہ کے روز مغویہ اپنے سعودی پلٹ آشناء افراسیاب کے ہمراہ عدالت پیش ہو گئی جہاں اس نے علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ والد ظلم کرتا تھا میری دو سال سے اپنے آشنا کیساتھ دوستی چل رہی تھی اور میں اس کیساتھ شادی کرنا چاہتی تھی مگر والدین انکاری تھے،مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا گھر سے مرضی سے گئی ہوں اور بغیر کسی دباؤ کے اپنے من پسند شخص سے شادی کر لی جس پر عدالت نے لڑکی کو اپنے خاوند کے ہمراہ جانے کی اجازت دے دی اور اغواء کے الزام میں گرفتار باپ بیٹے کو مقدمے سے بری کر دیا۔خبر کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ لڑکا پہلے سے شادی شدہ اور ایک بیٹی کا باپ ہونے کیساتھ ساتھ بسلسلہ روزگار سعودی عرب میں مقیم ہے۔ اس نے سعودی عرب سے پاکستان پہنچ کر اپنی محبوبہ کو فون پر اطلاع دی تھی کہ وہ گھر والوں کو اطلاع دہئے بغیر سعودی عرب سے صرف شادی کی غرض سے آ یاہے جس کے بعدطے شدہ منصوبے کے تحت رات کے اندھیرے میں وہ اپنی محبوبہ کو لینے اس کے گھر پہنچ گیا اور بعد ازاں کورٹ میرج کر لی۔یاد رہے کہ مقدمہ میں مدعی نے افراسیاب کی بجائے اس کے بھائی کو ملزم نامزد کر رکھا تھا۔پولیس کے مطابق سعودی پلٹ شخص نے دوسری شادی اپنی پہلی بیوی کی رضامندی سے کی ہے۔

کلر

Share.

Comments are closed.