انسانیت کا فقدان

0

دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر گزشتہ دنوں اچانک داغ مفارقت دے گئیں،محترمہ انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے اٹل اُصولوں کی بنا پر بعض حلقوں میں ایک متنازعہ شخصیت کی حیثیت سے جانی جاتی تھیں لیکن ایک بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اپنے ہوں یا پرائے جہاں بھی بات انسانی حقوق کی ہو وہاں عاصمہ جہانگیر اکیلے پوری فوج پر بھاری پڑ جایا کرتی تھیں ، اقلیتوں کا مسئلہ ہو یا گمشدہ پاکستانیوں کا،مسئلہ کشمیر ہو یاآمریت کا حتی کہ طالبا ن کی غیر قانونی حراست پر بھی عاصمہ جہانگیر مردوں کے اس معاشرے میں بڑے بڑوں کے چھکے چھڑا دیا کرتی تھیں ،جو کیس بڑے بڑے جعفادری وکیل بھی ہاتھ میں لینے سے کتراتے تھے وہ کیس عاصمہ جہانگیر کے بائیں ہاتھ کا کام تھا، مثل مشہور ہے کہ ہونہار بروا کہ چکنے چکنے پات،یعنی قابل اور اہل اولاد بچپن میں ہی دکھائی دے جاتی ہے،کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ اندازہ اُن کے بچپن یا زمانہ طالب علمی سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ موصوف یا موصوفہ کا مستقبل کیا ہو گا،جیسے مرحومہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کا عینعالم نوجوانی میں اپنے والد ملک غلام جیلانی کا دورآمریت میں مقدمہ لڑنا اور نہ صرف اپنے والد کے لئے ایک قابل فخر بیٹی کا درجہ پایا بلکہ عاصمہ جہانگیر کا مقدمہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک مثال بن گیا،لیکن صدافسوس کہ ہمارے عقل و شعور سے عاری جاہلوں اور اندھی تقلید کے پیروکار لوگوں پر جنہوں نے عاصمہ جہانگیر کی موت پر اپنے اندر کا گند نکال باہر کیا،لیکن یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو انہ ہی عاصمہ جہانگیر کوئی پہلی شخصیت تھی جس کو ہمارے بیمار اور کند ذہن معاشرے نے حرف تنقید بنایا ہو،ذرا پہلے عبدالستار ایدھی کے ساتھ کیا ہوا،کون کون سافتوی نہیں لگایا گیا،بنیادی طور پر مسئلہ یہ ہے کہ سرد جنگ کے عروج پرسابق سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر قبضے کے بعد افغان مہاجرین کی پاکستان آمد سے پاکستان جو ایک معتدل اسلامی معاشرہ کہلاتا تھا اس پر مذہبی انتہا پسندی کی چھاپ لگ گئی ،ڈالروں کی محبت کو اسلامی رنگ دیا گیا،اور 11سالہ دور آمریت کی سزا آج تک ہم بھگت رہے ہیں،ضیاء دور کی مذہبی اور لسانی انتہا پسندی کی بدولت جو نسل پروان چڑھی وہ آج جوان ہو چکی ہے ، جس کا عملی مظاہرہ ہمیں سوشل میڈیا پر عاصمہ جہانگیر کی موت پر ہونے والے تبصروں سے باآسانی ہوسکتا ہے،پاکستانی معاشرہ اس وقت بری طرح مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہو چکا ہے ،سلمان تاثیر کے قتل کے کیا محرکات تھے ؟ایک سوچ تھی ایک خلیج تھی جو معتدل معاشرے اور انتہا پسند معاشرے کو واضح کررہی تھی جس کا شکار ہر وہ شخص ہو سکتا ہے جو انسانیت کی بات کر تا ہے،ہمارا دین امن کا درس دیتا ہے لیکن عملاًہم کرتے اسکے برعکس ہیں،کتنی مثالیں دوں ،مشال خان قتل،ملالہ یوسف زئی،عبدالستار ایدھی،عاصمہ جہانگیر،اپنی ذاتی دشمنی کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لئے مثال خان کوبے دردی سے قتل کر دیا گیا اور عدالت سے بری ہونے والوں کا استقبال پھولوں سے کیا جارہا ہے،عبدالستار ایدھی ہو یا عاصمہ جہانگیر ہر دو نے اپنی زندگیاں انسانیت کے لئے تیاگ دیں،لیکن ہمارے معاشرے کے ناسور اور بونے اُن کو بعد از مرگ بھی بخشنے کو تیار نہیں، مرنے کے بعد کسی کی جنت یا جہنم کا فیصلہ کر نے کا اختیار اللہ تعالی کی ذات کا ہے ،وہ قادر مطلق بہتر جانتا ہے ہم اسکی حکمتوں کو نہیں سمجھ سکتے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ ہم یہ اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں،فتوی سازی کا ایک بازار سا گرم ہے،جتنے منہ اتنی باتیں،ہماری معاشرہ اس وقت عدم برادشت کا شکار ہے ہم میں سے ہر ایک نے اپنا اپنا خدا تراش رکھا ہے ،دوسرے کو انسانیت کی نظر سے دیکھنے کی بجائے ہم اپنی مخصوص کردہ مذہبی اور لسانی عینک سے دیکھتے ہیں،اگر تو وہ ہمارے معیار پر پورااُترے تو ٹھیک ورنہ کفر کا فتوی کو کہیں گیا ہی نہیں،یہی وجہ ہے کہ ایدھی ہو یا عاصمہ ،اسی طرح حرف تنقیدبنتے رہیں گئے،سلمان تاثیر ہو یا مثال خان اسی طرح قتل ہوتے رہیں گئے،دو مختلف سوچ رکھنے والے پاکستانی معاشرے کو اب اپنا بیانیہ بدلنا کی شدت کے ساتھ ضرورت ہے،ورنہ جو صورتحا ل جارہی ہے وہی رہی تو انتہا پسندی کا یہ عفریت ہمیں لے ڈوبے گا اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے صاحبا ن علم اور ہمارے ارباب اختیار کو اس حوالے سے کوئی جامع اور ٹھوس پالیسی تشکیل دینا ہو گئی،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے ،ملک کے تمام سیٹک ہولڈز کو اپنے ذاتی اور ادارہ جاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اس معاشرے کی بہتری کے لئے کام کرنا ہوگا ،اپنی نسلوں کو انسانیت کی تربیت دینا اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے جو فوری توجہ کامتقاضی ہے۔

Share.

Comments are closed.