حلقہ این اے باون

0

حلقہ این اے 52 میں سابق وزیر داخلہ نے حالا ت کے پیش نظر انتخابی مہم کا آغاز گذشتہ سال 2017 کے شروع سے ہی کر دیا تھا جو تاحال جاری ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کیا چوہدری نثارعلی خان کی طر ف سے حلقے میں کئے گئے اربوں کے ترقیاتی کام انکو کا میاب کر نے میں مدد کر سکیں گے یا نہیں کیو نکہ سابق مسلم لیگ (ق)کے دور اقتدار میں بھی اس حلقہ میں عوام کیلئے اربوں کے منصوبہ لگائے گئے لیکن اس کا مسلم لیگ (ق)کو انتخابات میں کوئی فائدہ نہیں ہوا ،چوہدری نثارعلی خان ان تمام کا موں کو عوام کے سامنے لا نے کا کام بہت احسن انداز میں کر رہے ہیں حلقہ 52اور 53 کا شمار پا کستان کے بڑے حلقوں میں ہوتا ہے ،مذکورہ حلقوں میں ووٹرز کی تعداد تقریباً 19 لا کھ کے قریب اور اسی طرح ان کے مسائل بھی بہت ہیں جنہیں حل کر نے کی کو شش چوہدری صاحب نے کی اور کچھ حد تک کا میاب بھی ہو ئے با وجود اسکے بہت کام ابھی باقی ہیں جو چوہدری نثار کے ذمہ ہیں ، مو جو دہ سیاسی صورت حال میں اور حالیہ چوہدری نثار علی خان کے (ن)لیگ اور مر یم نواز کے خلاف بیان کے بعد دیکھنا مگر یہ ہے (ن)لیگ چوہدری نثار کو ان کا مقام دیتی ہے یا پھر سیاسی اختلافات چوہدری نثار کو گائے پر سوار ہو کر حلقے میں جا نے کیلئے مجبور کر دیتے ہیں یاد رہے اس نشان پر چوہدری نثار علی خان گذشتہ الیکشن جیت چکے ہیں دوسری طرف حلقہ پی پی 6 کے ایم پی اے چوہدری سرفراز افضل حلقہ کی سیاست سے بہت دور ہیں جس کی وجہ سے اہل حلقہ ان سے شدید نا لاں ہیں جس کا اظہار یو سی کلیال اڈیالہ روڈ اور یو سی لکھن جلسے میں چیئر مین حضرات نے کھل کر کیا اور چوہدری نثار کو اس سیٹ پر خود الیکشن لڑنے اور سرفراز افضل کو یہ سیٹ نہ دینے کا پر زور مطالبہ کیا ،لیکن تاحال ان حلقوں کے ووٹر دو دھڑوں میں تقسیم ہیں اور تیسرا پڑھا لکھا باشعور ووٹر میاں نواز شریف کی نا اہلی اور پارٹی صدارت کیلئے منتخب کر نے پر اور ختم نبوت میں ترمیم پر ن لیگ سے سخت خفا ہے ،پا کستان تحریک انصاف کی پوٹھوہار ٹاون میں عامر کیا نی کی نگرانی میں کی گئی تنظیم سازی میں پا رٹی کے دو دھڑوں میں شدید اختلاف سامنے آنے لگے ،پی ٹی آئی کا نظریاتی ودیرینہ کارکن اس تنظیم سازی سے بالکل مطمئن نہیں ،نظریا تی کارکن یہ سوال کر تا ہے کہ قربانی دینے والوں کو فراموش کر کے بڑی گاڑیوں اور صرف تصویریں بنانے والوں کو پو ٹھوہار ٹاون کے اعلیٰ عہدے دینا کہاں کی عقل مندی ہے ،الیکشن کیلئے بھی پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے جس میں ایک دھڑا سابق امیدوار کر نل اجمل صابرراجہ جنہوں نے چوہدری نثار کے مقابلے میں الیکشن لڑ کے اچھی خاصی ووٹیں حاصل کی انکو دوبارہ ٹکٹ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ،جبکہ دوسرا دھڑا خان سرور خان جو کہ موجودہ این اے 53 سے ایم این اے ہیں کو الیکشن 2018 میں این اے 52 سے لڑنے کا مشورہ دے رہا ہے خان سرور خان خود بھی اس خواہش کا بار ہا دفعہ اظہار کرچکے ہیں کہ وہ دنوں حلقوں سے الیکشن لڑیں گے ،یاد رہے کہ کر نل اجمل صابر نے 2013 کے بعد ہی الیکشن 2018 کیلئے تیاری شروع کر رکھی ہے ،وہ حلقہ کا نا صرف دورہ کر تے ہیں بلکہ انکی خوشیوں اور غمیوں میں بھی شریک ہو تے ہیں ،ان کو ٹکٹ نہ ملنا مسلم لیگ ن چوہدری نثار کو فائدہ ہو گا کیو نکہ خان سرور خان اس حلقے میں نئے ہیں ۔دوسری طرف تحریک لبیک بھی حلقہ این اے 52 اور پی پی 6 میں اپنے امید وار لا نے میں ایک پلیٹ فارم پر نظر نہیں آرہی گذشتہ دنوں تحریک لبیک کے پلٹ فارم جلا لی گروپ نے علا مہ پروفیسر مدثر حسین رضوی کو حلقہ پی پی 6 کیلئے امید وار نا مزد کر دیا جنہوں نے گذشتہ روز حلقہ پی پی 6 سے تحریک لبیک یا رسول اﷲ کے چکر ی روڈپر دفتر کا افتتاح کیا ،تحریک لبیک کے آصف اشرف جلا لی اورعلا مہ خادم حسین رضوی گروپ میں اختلافات ختم ہو نے تک پا کستان سے کوئی بھی سیٹ حاصل کر نا ان کیلئے آسان نہیں ہو گا ،جما عت اسلامی حلقہ پی پی 6 اوراین اے 52 میں بہت منظم انداز میں کا م کررہی ہے جماعت اسلامی نے حلقہ این اے 52 سے اپنیدیر ینہ اور متحرک کارکن چوہدری عطا ربانی کو ٹکٹ کیلئے نامزد کر دیا ۔اس سے پہلے اس حلقے سے جما عت اسلامی کے دیر ینہ کا رکن خالد محمود مرزاالیکشن لڑ چکے ہیں ،اس بار پارٹی انکے بجائے عطا ربانی کو ٹکٹ دے رہی ہے ،اس حلقے میں پا کستان پیپلز پارٹی اور ق لیگ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے ،فی الحال انکا کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا البتہ پا کستان پیپلز پارٹی اور ق لیگ کی سیٹ ایڈجسمنٹ نہ ہو ئی تو پیپلز پارٹی کے متو قعہ امیدوار مصطفی نو از کھوکھر ہو سکتے ہیں جبکہ ق لیگ کے سابق وزیر قانون راجہ بشارت جن کا یہ آبائی حلقہ ہے وہ الیکشن لڑیں گے یا انکے بھائی راجہ ناصر اس حلقے سے الیکشن لڑ سکتے ہیں ۔۔۔

ادارے کا رائیٹر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share.

Comments are closed.