ستائیس پاکستانی کمپنیوں کی اپنی مصنوعات کے فروغ کیلئے ٹیکس ورلڈفرانس2018 میں شرکت

0

شبانہ چوہدری(نمائندہ خصوصی پوٹھوہار لنک پیرس)پاکستان کی 27 کپڑے کی صنعت سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں پیرس میں منعقد ہونے والی ٹیکس ورلڈنمائش 2018 میں شرکت کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں انتہائی اعلی معیار کی کپڑے کی مصنوعات جن میں دھاگہ، تیار شدہ کپڑے، اون سے بنی مصنوعات اور ڈینم شامل ہیں کو پیرس میں منعقد 4 روزہ 42ویں ٹیکس ورلڈ نمائش میں بھرپور شرکت کر رہی ہیں۔
سفیر پاکستامعین الحق نے پاکستانی سٹالز کا دورہ کیا اور مختلف کمپنیوں کے مالکان سے فرداً فرداً ملاقاتیں کیں۔ سفیر پاکستان نے نمائش میں رکھی گئی دھاگے، کاٹن کی مصنوعات، اور جینز کی تعریف کی جو کہ خاص طور پر یورپی خریداروں کے ذوق اور ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی تھیں۔
سفیر پاکستان نے نمائش کنندگان سے ملاقاتوں کے دوران ان سے معلومات اور تجاویز بھی حاصل کیں تاکہ پاکستانی کمپنیوں کی اس قسم کی آئندہ ہونے والی نمائشوں میں بھرپور طریقے سے پاکستان کی نمائندگی کی جا سکے۔
سفیر پاکستان نے پاکستان فرانس کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تجارت میں اضافہ سفارت خانہ پاکستان کی طرف سے 2016 میں متعارف کی جانے والی معاشی سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2016 میں پاکستان کی فرانس کو برآمدات میں 16 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ جبکہ سال 2017میں دو طرفہ تجارت میں قابل قدر اضافے کی توقع ہے جو کہ انتہائی مثبت پیشرفت ہے۔ بعد میں سفیر پاکستان نے مائیکل سکارپ صدر ٹیکس ورلڈ سے بھی ملاقات کی اس ملاقات کے دوران پاکستان کی کمپنیوں کی طرف سے ٹیکس ورلڈ نمائش میں شمولیت کیلئے جو کہ سال میں دو دفعہ لگتی ہے اس میں مزید بہتری لانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔پاکستان کی اعلی شہرت یافتہ کمپنیوں جن میں نشاط ملز، کوہ نور، سفائر، کمال لمیٹڈ، صدیق سنز اور ماسٹر ٹیکسٹائلز شامل ہیں نے اپنے انتہائی شاندار سٹال لگائے تھے۔ جن کی وجہ سے انہیں خریداروں کو راغب کرنے میں انتہائی مدد ملی۔
ٹیکس ورلڈ جس کا انعقاد سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے میں یورپ سے تعلق رکھنے والے فیشن انڈسٹری کے چیدہ چیدہ افراد شرکت کرتے ہیں اور یہ نمائش ٹیکسٹائل کی صنعت سے تعلق رکھنے والے فروخت کنندگان اور خریداروں کیلئے انتہائی تیز ترین اور موثر ذریعہ ہے۔ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے ہزار سے زائد فروخت کنندگان اس نمائش میں شرکت کر رہے ہیں۔

Share.

Comments are closed.