ماڈل دینی مدرسہ حاجی کیمپ میں زیر تعلیم طالبات کا احتجاج شدت اختیار کر گیا

0

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی ،بیوروچیفِ پوٹھوار لنک ڈاٹ کام )ماڈل دینی مدرسہ حاجی کیمپ میں زیر تعلیم طالبات کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔پرنسپل کے پرائیویٹ ڈرائیور کا طالبات پر تشدد ایک کا بازو ٹوٹ گیا جبکہ دو طالبات زخمی۔تشدد کرنے والا شخص گرفتار۔تفصیلات کے مطابق تھانہ نون کے علاقہ حاجی کیمپ میں موجود وزارت مذہبی امور کے زیر انتظام چلنے والا طالبات کا ماڈل دینی مدرسہ میں طالبات کا احتجاج جاری ہے ۔انتظامیہ نے چار دن سے طالبات کھانا پینا بند کر رکھا ہے۔ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبات نے الزام عائد کیا کہ مدرسہ کی پرنسپل ذل عظیم نے وزارت مذہبی امور کے آڈرز کو اپنے ہاتھوں سے تبدیل کرتے ہوئے گریڈ سترہ میں تعینات آٹھ ٹیچرز کو گریڈ سولہ میں کر دیااور تین قابل ٹیچرز کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔جس وجہ سے ہم نے احتجاج شروع کیا۔احتجاج کو ختم کرانے کے لئے انتظامیہ نے تھانہ نون کے ذریعے دباؤ ڈالا ۔انتظامیہ نے ہمارا چار روز سے کھانا پینا بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے چار طالبات بے ہوش ہو گئیں۔پرنسپل کے پرائیویٹ ڈرائیور نے احتجاج کرنے والی طالبات پر گاڑی چڑھا دی جس سے ایک طالبہ کا بازو ٹوٹ گیا جبکہ دو زخمی ہو گئیں۔زخمی طالبات کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مدرسہ میں سیکیور ٹی کا کوئی انتظام نہیں سیکیورٹی کے صرف ایک لڑکا رکھا گیا ہے۔مدرسہ میں انتظامیہ کی مرضی سے مرد حضرات آتے ہیں اور پرنسپل کے خاوند نے آکر ہمیں دھمکیاں دیں کہ میں آپ کو اندھیری کوٹھری میں ڈال دونگا۔اس موقع پر چےئرمین مدرسہ بورڈ کیپٹن آفتاب ،اے سی پوٹھوا وسیم خان ، ڈی ایس پی سردار مصطفی ، ایس ایچ اوتھانہ نون اسلم کلیار اور لیڈی پولیس موقع پر پہنچ گئے ۔طالبات نے مطالبہ کیا ہے کہ مدرسہ کی پرنسپل کو فوری ہٹایا جائے برطرف ٹیچرز کو دوبارہ تعینات کیا جائے۔مدرسہ میں سیکیورٹی کا معقول بندوبست کیا جائے اور مرد حضرات کا داخلہ بند کیا جائے۔اس سلسلے میں جب مدرسہ کی پرنسپل ذل عظیم سے فون نمبر03212321999پر رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر بات نہ ہوسکی۔

Share.

Comments are closed.