گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول ساگری میں 2009 سے تعنیات ہیڈ مسٹریس فرحت یاسمین اور اس کی منظور نظر خاتون اساتذہ کے گروہ نے سکول کی طالبات کا جینا دوبھر کر دیا ہے

0

راولپنڈی(آصف شاہ ‘)گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول ساگری میں 2009 سے تعنیات ہیڈ مسٹریس فرحت یاسمین اور اس کی منظور نظر خاتون اساتذہ کے گروہ نے سکول کی طالبات کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ باوژق ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکول کی بچیوں سے آئے روز مختلف حیلوں بہانوں سے پیسے وصول کرنے شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کبھی فرنیچرز مرمت اور کبھی فیئر ویل کے نام پر پیسے لیے جاتے ہیں اب حال ہی میں فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کی بچیوں سے امتحانات کی مد میں دو سو سے لیکر چار سو روپے وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے ان پیسوں کو لینے کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ آٹھویں اور میٹرک کے امتحانات میں دوسرے سکولوں سے آنے والی اساتذہ کے لیے کھانے پینے کے انتظامات کرنے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سکول پرنسپل اور اس کی منظور نظر اساتذہ نے سکول میں پڑھائی کے بجائے کاروبار شروع کر رکھا ہے اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آئے روز دو اساتذہ اپنے خرچہ پر گھر سے چنا چاٹ بنوا کر لاتی ہیں اور سکول کی بچیوں سے فروخت کروایا جاتا ہے جبکہ دیگر بچیوں پر کوئی اور ریفریشمنٹ لینے پر پابندی ہے اور وہ ماسوائے چنا چاٹ کے کچھ اور نہیں لے سکتیں۔ اس سے پہلے سکول میں واقع کینٹین کو ختم کروا دیا گیا اور کینٹین کنٹریکٹر سے روزانہ کی بنیاد پر ہزار روپے کی وصولی کی جاتی تھی ان پیسوں کو پرنسپل اور ٹیچرآئے روز اپنے لیے کھانے کے پروگراموں پر خرچ کرتی ہیں ۔ دوسری طرف سکول کی اساتذہ بچیوں کو پڑھانے کے بجائے ڈرائیونگ سیکھاتی ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ دنوں دو بچیوں کو زخمی کر دیا گیا تھا اور ان کے والدین نے بھی بچیوں کے سال ضائع ہونے کے خوف سے چپ سادھ لی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنسپل کو سیاسی آشیر باد حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ سٹاف کو ملحوظ خاطر نہیں لاتی۔ پرنسپل اور اس کی منظور نظر اساتذہ کا گروپ اتنا بااثر ہے کہ مقامی استانیوں نے دور دراز تبادلہ کے ڈر سے چپ سادھ رکھی ہے۔ اس حوالہ سے جب پرنسپل کا موقف لینے کے لیے نمبر 051.4680957پر متعدد بار رابطہ کیا گیا تو کسی نے فون کو اٹینڈ نہیں کیا۔

Share.

Comments are closed.