کہوٹہ کے مشہور مقد مہ بدفعلی کے ملزم محمد عرفان کی سزا ہائی کورٹ میں برقرار لیکن تھانہ کہوٹہ کی ملی بھگت سے فرار۔

0

کہوٹہ (راجہ پرویزاقبال) تفصیلات کے مطابق تھانہ کہوٹہ کے مشہور مقدمہ میں نامزد ملزم عرفان ولد طارق محمود سکنہ کھڈیوٹ کہوٹہ کو بعدالت سید جہاں زیب بخاری علاقہ مجسٹریٹ تھانہ کہوٹہ سے مورخہ 27 اپریل 17 کو بدفعلی کا جرم ثابت ہونے پر تین سال کی قید 45 ہزار روپے جرمانہ اور مبلغ ایک لاکھ روپے بطور ہرجانہ سنائی تھی جس کے خلاف ملزم نے فوجد اری اپیل دائر کی جو کہ مورخہ 18 اگست17 کو ایڈیشنل سیشن جج سید اصغر علی نے خارج کر دی جبکہ مذکورہ دو فیصلہ جات کے خلاف ملزم نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں فوجی نگران نمبر 212/17 دائر کی جو گذشتہ روز جسٹس قاضی محمد آمین احمد لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فصیلوں کو بحال رکھا یاد رہے ملزم پر بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے اور اسکی ویڈیو بنانے کا الزام تھا۔فیصلہ ہونے پر مستغیث مقدمہ محمد اسرائیل نے کمرہ عدالت کے باہر ڈیو ٹی افسر حسیب اے ایس آئی تھانہ کہوٹہ کی منت سماجت کی کہ ملزم کو فی الٖفور گرفتار کیا جائے کیونکہ ملزم عدالت میں موجو د تھا لیکن اے ایس آئی نے ملزم کو خو د فرار کر ادیا اور تاحال گرفتار نہ کیا ،مستغیث مقدمہ کا کہنا ہے کہ اس نے تحریر طور پر تھانہ کہوٹہ میں درخواست بھی دی لیکن پولیس تھا نہ کہوٹہ صبح شام کا کہ کر ٹال مٹول کر رہی ہے۔ کیونکہ اے ایس آئی حسیب نے بھاری رقم رشوت لے کر سزا یافتہ مجرم کو فرار کرادیا ہے مجبور باپ نے وزیر اعلیٰ پنجاب،سی پی او راولپنڈی سے مجرم کی گرفتاری اور حسیب اے ایس آئی کے خلاف محکمانہ کاروائی کی اپیل کی ہے ۔

Share.

Comments are closed.