پی او ایف کے محنت کشوں کی اپ گریڈیشن ورکیمین ایسوسی ایشنوں کو اعتماد میں لیکر کی جائے ، غلام سرور خان

0

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی ،بیوروچیفِ پوٹھوار لنک ڈاٹ کام )ممبر قومی اسمبلی و تحریک انصاف کے مرکزی سنئیر نائب صدر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پی او ایف کے محنت کشوں کی اپ گریڈیشن ورکیمین ایسوسی ایشنوں کو اعتماد میں لیکر کی جائے ، جن دو انکریمنٹ کا بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا انھیں بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جائے،ہر وزیر اعظم نے پی او ایف کے محنت کشوں کے لئے ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی موجودہ وزیر اعظم بھی پی او ایف کے محنت کشوں کے لئے ہاؤسنگ سوسائتی کا اعلان کریں،پی او ایف انتظامیہ عوام کے منتخب کردہ نمایندوں کے ساتھ میٹنگ کر کے عوامی مسائل کا خاتمہ کرے، ممبر صوبائی اسمبلی ملک تیمور مسعود اکبر نے کہا کہ نئے تعینات ہونے والے چئیرمین سے گذارش ہے کہ وہ محنت کشوں کے وسیع تر مفادات کو مد نظر رکھ کر محنت کشوں کی بے چینی کا خاتمہ کریں،اس وقت نہ صرف پی او ایف کے محنت کشن بے چین ہیں بلکہ انکے خاندان بھی بہت سے مسائل کا شکار ہیں ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے تحریک انصاف پبلک سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا، اس موقع پر چئیرمین ملک ثاقب ممتاز، ملک ظفر محمود، ماسٹر نثار خان، تحریک انصاف لیبر ونگ کے راہنما ہارون شاہ، اعجاز ملک، محمود الحسن، عبدالعزیز، سعید اکبر، تحریک انصاف واہ کے نائب صدر راجہ بلال، انوار راجپوت سمیت دیگر کارکنان تحریک انصاف بھی موجود تھے، انھوں نے کہا کہ مزدور ایکٹ 2005کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جائے اور پی او ایف کے محنت کشوں کی اپ گریڈیشن ورکمین ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کی جائے، عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے،اسٹیٹ ایریامیں رہائش پذیر عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ،انتظامیہ وائس چئیرمین کینٹ بورڈ واہ اور عوام کے منتخب شدہ نمایندوں کے ساتھ مشاورت کرکے سیکورٹی سمیت تمام معاملات پر عوام کو اعتماد میں لیں تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے،انھوں نے کہا کہ ہر دور میں وزیر اعظم پی او ایف کا دورہ کرتے رہے اور اپنے دورہ کے دوران انھوں نے پی او ایف کے مھنت کشوں کے لئے دیگر مراعات کے ساتھ ہاؤسنگ کالونیاں دینے کا بھی اعلان کرتے رہے اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ بھی ہوتی رہی موجودہ وزیر اعظم بھی پی او ایف کا دوریہ کریں اور محنت کشوں کے لئے ہاؤسنگ کالونی کا اعلان کریں۔

Share.

Comments are closed.