”آئین نو سے ڈ رنا نظام کہن پہ اڑنا ‘

0

علم ایک عظیم قوت و طاقت ہے۔ علم کے ذریعے ہمیں مادی دولت ہی نہیں بلکہ روحانی سکون بھی میسر آتاہے۔ اسلام میں تو علم حاصل کرنا ہر مرد و زن پر فرض قرار پایا ہے۔علم وہ خزانہ ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا، علم کے بغیر کوئی انسان اپنی ذات کی پہچان بھی نہیں کرا سکتا اور بغیر علم کے ساری زندگی مقصد حیات سے بے خبر ہو کر معاشرے ،وطن اور انسانیت کے کسی کام میں اپنے آپ کو نہیں لا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ آج مغربی معاشرے پوری دنیا کواپنی حکمرانی میں لئے ہوئے ہیں۔جنہوں نے جدید علوم کے ذریعے اپنی قوموں کوعلم جیسے زیور سے روشناس کروایا۔جی ٹی روڈ باہتر موڑ سے فتح جنگ جانے والی شاہراہ پرجھنگ نامی قصبہ واقع ہے اور ا س علاقہ کے درجنوں دیہات کاجنکشن بھی ہے۔اس علاقہ کے ہونہار، متوسط اور غریب لوگوں کے بچوں کو ان کی دہلیز پرمعیاری تعلیم سے روشناسی کے لئے نوجوان ماہر تعلیم اور انتظامی امور میں کمال درجہ کی حامل شخصیت پروفیسر عبد الخالق کی کاوشوں سے الائیڈ سکول جھنگ کاقیام عمل میں لا کر حقیقی معنوں میں اپنے بزرگوں کے اس تسلسل کو قائم رکھا ہے فروغ تعلیم کے لئے جن کی خدمات کا زمانہ قدر کرتا ہے۔ اس خوبصورت درسگاہ کے اجراء کے موقع پر جھنگ،باہتر،تربیٹھ،دھریک،نیکا،کریما،بھلول،حصار،امیر خان،پیر شاہی ، بھگوی کامل پورمائیاں، لنگر شریف ، گھکھڑ ، پنڈ بہادر خان ، پنڈ صاحب خان ، پنڈ فضل خان ، کٹھہ کالونی، پٹھان کوٹ اور قرب و جوار کے دیہاتوں کے علم دوست شخصیات اور نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے سربرا ہان جن میں محمد مسکین، عبد المالک،سید مظہر شاہ، سردار محمد بنارس خان،عامر اقبال خان ،سردار عابد عزیز ایڈوکیٹ،رفعت حیات خان،نثار عباس خان،سید زاہد حسین کاطمی،طارق شاہ، عمران امانت خان ، عارف خان، وقار لیاقت خان اور محمد عارف خان ماہر مضمون اور دیگر اہل علم شخصیات کی شرکت سے یہ محسوس ہوا کہ سبھی حضرات چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرہ میں علم کا نور پھیل سکے اور علاقہ میں روشنی کے دیپ سے ہر خاص و عام کا بچہ ، بچی فائدہ اٹھا کر معاشرتی ترقی میں روشن ستاروں کی طرح جگ مگا سکیں ۔ اس خوبصورت تقریب کے مہمان خصوصی پیر نقیب الرحمان آف عید گاہ شریف ، ممتاز دانشور و کالم نگاراو ر تکبیر مسلسل کے داعی وطن عزیز کے نامور لکھاری و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل حکومت پاکستان جناب خورشید ندیم اور یہ راقم تھے ۔ جبکہ صدارت کے فرائض معروف ماہر اقبالیات اور راہنمائے اساتذہ اٹک سر دار ایاز اختر نے سر انجام دئیے۔ تلاوت کلام پاک ونعت رسول مقبول ﷺ کے بعد پروفیسر عبدالخالق نے بڑے خوبصورت پیرائے میں علم کی اہمیت اور اس کے حصول اور درسگاہ کے قیام و تعلیمی معیا ر کے حوالہ سے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔مقررین جن میں راقم کے علاوہ صغیر خان سابق ڈپٹی ڈی ای او، خالد محمود ڈائریکٹر سکول ہذا، معروف ماہر تعلیم فردوس خان سابق پرنسپل ڈویژنل پبلک سکول اوکاڑہ حال پرنسپل نووا سٹی سکول نیو سٹی فیز 2واہ کینٹ اور دی فاؤنڈرز ایجوکیشن سوسائٹی ٹیکسلا کے ڈائریکٹر پروفیسر محمود اعجاز بٹ نے بھی اس درسگاہ کے قیام پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اہلیان علاقہ کو مبارک باد دی کہ اب ان کے طلباء کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لیے جو کام اس علاقہ کے صاحب ثروت اور ذمہ داران کو کرنا چاہیے تھا یہ کام جس جذبہ سے پروفیسر عبدالخالق نے کیا ہے اس نیک مشن کی تکمیل اسی وقت ہو سکتی ہے جب اہل علاقہ اس خوبصورت تعلیمی پودے کو اپنی پر خلوص کاوشوں سے آبیاری کر کے اپنے بچوں کے مستقبل اور علاقہ کی معاشرتی ترقی میں سائبان کا درجہ دیں ۔ مہمان خصوصی ممتاز دانشور ، محقق ونقعاد ، ادیب و لکھاری خورشید ندیم نے اپنے بصیرت افروز خیالات میں اس امر پہ خوشی کا اظہار کیا کہ وہ آج تحصیل فتح جنگ کے اس علاقہ میں مخاطب ہیں جہاں پہ ان کے والد گرامی مرحوم نے اپنی ساری زندگی درس و تدریس کے ذریعے علم کے چرا غ روشن کرتے ہوئے ،اثاثے میں ہزاروں شاگرد چھوڑے جو اپنے تئیں اپنے استاد مکرم کے نیک مشن کو معاشرے میں جاری رکھتے ہوئے خوبصورت کردار ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آ ج کی اس تقریب میں ان کی شرکت بھی اپنے والد گرامی کے مشن ہی کی ایک کڑی ہے جو میں اس خوبصورت مادر علمی کے آغاز کے موقع پر صدقہ جاریہ کے اس عظیم مشن میں آپ سے مخاطب ہوں خورشید ندیم نے کہا حقیقت میں علم ایک ایسی قوت ہے جو تمام دنیا کی قوتوں سے افضل ہے اور جس کے زوال کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ قدرت کے سر بستہ رازوں سے آگاہی علم ہی کی بدولت حاصل ہوئی ہے علم ہی کی وجہ سے دنیا کی تمام وسعتیں آج کے انسان کے سامنے سمٹ گئی ہیں دوریاں قربتوں میں تبدیل ہو چکی ہیں انسان ہوا پر قابو پا چکا ہے اور خلاء کی وسعتوں پہ حاوی ہے چاندپر بھی اپنی فتح کا جھنڈا بلند کر چکا ہے ۔ علم ہی کی بدولت وہ مظاہر قدرت جنہیں وہ پوجتا تھا آج اسکی خاک کی راہ ہیں۔ علم ہی کا کرشمہ ہے جس پر عمل کر کے آج ہم اپنی دہلیز پر بیٹھے پوری دنیا کے حالات سنتے ، دیکھتے اور آگاہی حاصل کر رہے ہیں اور نت نئی معلومات کا خزانہ ہم تک علم ہی کی بدولت پہنچ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ علم کا فیض ہے کہ انسان کا نام مرنے کے بعد بھی روشن رہتا ہے ہمارے اور دیگر اقوام کے عظیم قائدین نے علم ہی کے ذریعے قوم کی سچی اور پر خلوص خدمت کی ہے ۔آج بھی وہ لوگوں میں اپنے علمی کام کی وجہ سے زندہ جاوید ہیں ۔ بزرگان دین بھی علم کی شمع سے لوگوں کو سیدھی اور سچی راہ دکھاتے رہے علم ہی کی بدولت ایجادات و انکشافات کا ایک لا متناہی سلسلہ وجود میں آیا ہے جس کا دوسرا کنارہ نظر سے دور اور بعید از قیاس ہے ۔ خورشید ندیم نے ناساز ی طبع کے باوجود حاضرین کے دلوں کو جذبہ حب الوطنی سے علامہ محمد اقبالؒ کے افکار و اشعار سے گرماتے ہوئے کہاکہ علم ہی انسان کو جرأت ، ہمت ، استقلال، تدبر و بردباری اور ہر قسم کی عقدہ کشاہی کی صلاحیت عطا کر تا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان نے دنیا کا چپہ چپہ چھان مارا ، قطب شمالی سے لے کر قطب جنوبی تک زمین کو روندتا چلا گیا لہذا ضرورت آج اس امر کی ہے کہ عبد الخالق او ر ان کے ساتھیوں جیسا جذبہ اگر ہر صاحب شعور میں پیدا ہو جائے اور ملک کے طول
وعرض میں معیاری درسگاہوں کا اجراء عمل میں لا کر ہم اپنے بچوں کو عصرحاضر کے چیلنجز کے لیے تیار کر سکتے ہیں ۔صدر تقریب معروف ماہر اقبالیات اور پنجاب ٹیچر ز یونین اٹک کے سدا بہار عوامی راہنما ء و شعلہ بیاں مقرر سردار ایاز اختر نے اپنی تقریر کا آغاز علامہ محمد اقبال ؒ کے شعر ؂ آئین نو سے ڈرنا نظام کہن پہ اڑنا مرحلہ یہی کھٹن ہے قومو ں کی زندگی میں
کا سہارا لیتے ہوئے محفل کی جان بن گئے انہوں نے اقبالؒ کے آج کے نوجوان کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں جب اقبال ؒ نے دیکھا کہ مغربی اقوام انتہائی حد تک قوم پرستی میں مبتلا ہے وہ خود غرضی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہیں ، ملک گیری ، توسیع پسندی اور استحصال کی حرص نے ان قوموں کو انسانیت اور اخلاقی قدروں سے یکسر محروم کر دیا ہے ۔ پھر انہوں نے واپس آکر دنیائے اسلام کو بے عمل ، تسائل پسندی ، غربت و جہالت کی چکی میں پستے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ملت اسلامیہ کو اپنے افکار سے بیدار کریں گے اس سلسلہ میں ان کی شاعری نے مسلم امہ کو قومیت ، حب الوطنی ، انسانیت ، عمل و اتحاد اور جدو جہد کا درس دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اقبال ؒ کی ہر بات اور ہر کام انفرادیت کا روپ لیے ہوئی تھی اقبالؒ آسمان حکمت و فلسفہ ، شعرو سخن ، تحریرو تقریرکے درخشندہ آفتا ب اور شرافت و متانت کی سیاست کے علمبردار تھے ۔ ان کے مہر و ماہ کی تابانیوں کو زندہ رکھنے کے لیے فروغ تعلیم وقت کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے مستقبل کے حقیقی اقبال ؒ کے شاہین ثابت ہو سکیں ۔
مہمان خصوصی ممتاز عالم دین صاحبزادہ پیر محمد نقیب الرحمان سجادہ نشین آستانہ عالیہ عید گاہ شریف راولپنڈی نے بڑے خشوع و خضوع سے درسگاہ کی کامیابی اور ملک و ملت کے لیے دعا کروائی اور اپنے دست مبارک سے فیتہ کاٹ کر درسگاہ کو ہر خاص و عام کے لیے استفادہ کر نے کے نیک مشن کا آغاز کر دیا ۔تقریب سے واپسی پرممتاز سیاسی و علمی شخصیت ملک محمد امین آف ماڑی ، اظہر محمود ، ساجد غفار اور طارق شاہ کے ہمراہی ایفا سکول آف ایکسیلینس حصار ضلع اٹک کے ڈائریکٹر ممتاز بنکارمشتاق خان آف حصار کے عوامی ڈیرے پر خان رضوان خان اور قمر احمد خان کی جانب سے دی گئی خوبصورت ضیافت سے استفاد ہ کیا
قارئین کرام ! آج عالمی نقشے پر جو ممالک ترقی کی درخشندہ راہوں اور دولت کے جلو میں آگے بڑھ رہے ہیں سب سے پہلے انہوں نے اپنے ملک کی شرح خواندگی میں اضافہ کیا ضرورت اس امر کی ہے آج ہم اپنے معاشرے کے ہر فرد میں قومی شعور جذبہ حب الوطنی اور انسانی عظمت کے راز منکشف کرنے کے لیے معیاری تعلیمی اداروں کا قیام اور ان کی سرپرستی کر کے اپنی اولاد کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے پہلوؤں سے روشناسی دے کر زندہ اقوام میں اپنا شمار کر ا سکتے ہیں یہی وقت کی پکار بھی ہے اور کالم ”دل کی باتیں ”بھی اسی بات کا متقاضی ہے ۔

ادارے کا رائیٹر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share.

Comments are closed.