تمام وسائل کے باوجوسادگی سے مسجد میں اسلامی طریقے کے مطابق شادی کرنا تقوئ کے زیادہ قریب ہے

0

نمائندہ پوٹھوارلنک لوٹن۔تمام وسائل کے باوجوسادگی سے مسجد میں اسلامی طریقے کے مطابق شادی کرنا تقوئ کے زیادہ قریب ہے ،ایسی ہی ایک شادی کا انعقاد برطانیہ کے شہر لوٹن علی مسجد میں ہوا۔برطانیہ کے شہر لوٹن میں بڑی تعداد میں پاکستانی و کشمیری رہتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی طرح ہی شادیاں بڑ ھے دھوم دھام سے ہوتیں ہیں اور بڑے بڑےہوٹلو ں پرتکلف کھانے لمبوزین اور نمود ونماش کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس معاشرے میں بھی شادی کرنے کے لئے بھاری رقوم کی ضرورت ہوتی ہے ۔
‎لیکن آزاد کشمیر کے رہائشی برٹش کشمیری صدر علی مسجد سیاسی و سماجی شخصیت سید اقرار شاہ نے اپنے بیٹے سید علی موسی (Musa)کی شادی تمام وسائل ہونے کے باوجود مسجد کے اندر ہی سادگی سے شادی کا بندوبست کیا نکاح ہوا عام کپڑے پیناہ کر دعائے خیر کی گئی اور حاضرین کو دسترخوان پر کھانا دیا گیا جس کو کمیونٹی رہنماؤں نے خوب سرھاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی روایت ہے جس پر امید کی جاتی ہے کہ ہماری کمیونٹی لازمی عمل کرے گی۔مولانا علی رضا رضوی نے نکاح کی اہمیت اور خصوصا مسجد میں شادی کی اہمیت کے حوالے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ۔۔۔۔۔۔۔
‎دلہا کے والد اقرار شاہ نے کہاکہ سادگی سے شادی کا بندوبست اس وجہ سے کیا کہ میں شادی پر ہونے والے متوقع اخراجات پاکستان میں غریب فیملیوں کے لئے دے دونگا تاکہ وہاں غریب ویتیم بچوں کی شادیاں ہو جائیں گی اور ہم نمود ونماش کے گناہ سے بھی بچ جائیں گئے ۔
‎اس موقع پر اعجاز نقوی ،مئیر آف لوٹن محمد ایوب اور مولانا سید عباس نےسی این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اقرار شاہ کے اس عمل کو ایک احسن قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک میں رہتے ہوئے ہمیں اپنی خوشیاں اسی طرح مسجدوں میں منانی چائیں کیونکہ مساجد سے جوڑے رہنے سے ہی ہماری کمیونٹی کی بہتری ہے۔

Share.

Comments are closed.