سقوط ڈھاکہ،ہم نے سبق نہیں سیکھا،

0

وقت کر تا ہے پر ورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

آئیے ذراماضی کے جھرونکوں میں جھانکتے ہیں،یہ ڈھاکہ کی گلیاں ہیں،وہ ڈھاکہ جو مسجدوں کا شہر کہلاتا ہے،یہ بات ہے اُنیسویں صدی کے چوتھے عشرے کی،23مارچ 1940کو لاہور میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد تحریک پاکستان اپنے عروج پرہے،ڈھاکہ کے گلی کوچے بھی برصغیر کے باقی مسلم اکثر یتی علاقوں کی طرح لے کے رہیں گئے پاکستان ،بٹ کے رہے گا ہندونستان کے نعروں سے فضاء کو گرم کئے ہوئے ہیں،کیا بڑا کیا چھوٹا کیا مرد کیا عورت الغرض ہر ایک کی زبان پر بس ایک ہی ہے نعرہ ہے ،آزادی،آزادی،اور کیوں نہ ہو یہ وہی خطہ ہے جہاں مسلم رہنماؤں نے 30دسمبر6 190کو برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔لہذاآل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں اور وارث ہو نے کی بنا پر ڈھاکہ کے یہ باسی زیادہ جوش وخروش سے پاکستان کے لئے تحریک چلا رہے ہیں،اب ذرا منظر بدلتا ہے ،یہ مارچ 1971ہے وہی ڈھاکہ ہے ۔وہی گلی کوچے ،وہی لوگ،ابھی وہ نسل زندہ ہے جس نے پاکستان بنایا تھا ،کسی بھی نئی مملکت کے لئے 24سال کا عرصہ کوئی زیا دہ نہیں ہوتا ،لیکن اب نعرے پاکستان کے لئے نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے لئے لگ رہے ہیں،وہ لوگ جو کل تک ایک اللہ ایک رسولﷺ ایک کتاب ،ایک نظریے اور ایک پرچم تلے ملکر پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے،آج ایک دوسے کے خون کے پیاسے ہیں،اپنوں میں دراڑ آگئی،نہ کسی خونی رشتے کالحاظ رہا ،اورنہ کسی نظریے کا،لیکن سوال اس بات کا پیدا ہوتا ہے کہ صورتحال اس نہج تک کیسے پہنچی؟وہ کون سے عوامل تھے؟ جنہوں نے محض 24سال کے قلیل عرصے بعد مشرقی پاکستان والوں کو بنگلہ دیش بنانے پر مجبور کردیا،تاریخ کی درستگی کے لئے اس بات کا واضح تعین کرنا ازحد ضروری ہے،تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی المیے سے بچا جا سکے ،قیام پاکستان کے بعد سے لے کر دسمبر 1971تک ہونے والی محلاتی سازشیوں ،مارشل لاء،زبان کا مسئلہ ، معاشی بے چینی،انتطامی کمزوریوں،اور سب سے بڑھ کر قیام پاکستان کے بعد سے مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت اور اثر ورسوخ نے جلتی پر تیل کا کام کیا،اگر ملک میں لیاقت علی خان کے قتل کے بعد جمہوریت مسلسل چلتی رہتی ،درپردہ اور کھلم کھلا 1958میں مارشل لاء نہ لگتا تو شاید ہماری تاریخ آج کچھ اور ہوتی،مگر وائے ناکامی! کہ ایک بھارتی وزیر اعظم کو یہ کہنا پڑا کہ میں اتنی دھتیاں نہیں بدلتا جتنی پاکستان میں حکومتیں بدل جاتی ہیں، اور پھر ایوبی مارشل لاء نے جو بیج بوئے وہ فصل ہمیں 1971کو آدھا ملک گنوانے کے صورت میں کاٹنا پڑی،دنُیا کے سب سے بڑی اسلامی نظریاتی مملکت دولخت ہوگئی،90ہزار فوجی،نیم فوجی دستے،ملازمین اور دیگر بھارت کی قید میں چلے گئے،اور ہاتھ کیا آیا بدنامی،رسوائی،ذلت اور شرمندگی،وجہ؟احساس برتری،اورگھمنڈ،بنگالیوں کو خود سے کم تر سمجھنا ،اُن کو ملکی ترقی میں پیچھے رکھنا،کچھ تو تھا جو شیخ مجیب الرحمن نے کہا تھا کہ مجھے اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی ہے،سبق جی ہاں سبق ابھی بھی ہم نے نہیں سیکھا ،آج بھی ملک کی مقتدر قوتیں سیاست دانوں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھا رہی ہیں،انصاف کے نام پر دوہرا معیار،احتساب کے نام پر ڈرامہ ،اور محلاتی سازشیں آج بھی وہی ماحول ہے،جموریت کی سر پر آج بھی اسٹبلمشنٹ اور نادیدہ قوتوں کی تلوار لٹک رہی ہے۔انجام گلستان کیا ہوگا وہ سب کو نظر آرہا ہے،کیونکہ یہ قدرت کا سادہ مگر اٹل قانون مکافات ہے کہ جو بو گئے وہی کاٹو گئے۔ کل الیکشن کے بعد محض اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کے لئے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگا یا گیا اور ٓج سیاست دانوں کو صادق وامین کے سر ٹیفکیٹ دےئے جارہے ہیں، بندہ پوچھے کسی بھی سیاست دان کی اہلیت کا بہترین معیار جب انتخابات ہیں اور یہ عوام کا حق ہے تو پھر کیوں تا ریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے پھر وہی پر یکٹس دوہرائی جا رہی ہے؟پاکستان ہم سب کا ہے،اس کی جغرافیائی اور نظریا تی سرحدوں کی نگہبانی بھی ہم نے ہی کرنی ہے،لہذا کوئی ادارہ ہو یا سیاستدان ہمیں ملکر اس ملک کو آگئے لے کر جان ہے،16دسمبر کا سانحہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج پر قرض ہے،دانا آدمی مقروض ہو جائے تو وہ قرض خواہ کے پاؤں نہیں پڑتا،بلکہ قرض چکانے کی تگ و دہ میں جُت جاتا ہے،اور اس کے برعکس جو اپنے قرض کی پرواہ نہیں کرتا،وہ مزید اس دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے،اور پھر نہ اس کی عزت و آبرو سلامت رہتی ہے نہ گھر بار،لوگ اُس کے جسم سے کپڑے تک اُتار لیتے ہیں،یہی حال قومو ں کا ہے،قوموں کی تقدیر کے فیصلے حقائق سے نظریں چُرا کر نہیں مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرنے سے ہوتے ہیں
ٓٓٓٓٓٓٓٓآخر میں فیض احمد فیض کے چند اشعار
کب نظر میں آئے گئی گل رنگ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھولیں گئے کتنی برساتوں کے بعد

 

ادارے کا رائیٹر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share.

Comments are closed.