فاٹا کے ایک کروڑ عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا ، ظلم ، زیادتی اور انصاف کے منافی ہے،ہارون الرشید

0

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی ،بیوروچیفِ پوٹھوار لنک ڈاٹ کام )سابق ایم این اے باجوڑ و نائب امیر جماعت اسلامی کے پی کے صاحبزادہ ہارون الرشید نے کہا ہے کہ فاٹا کے ایک کروڑ عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا ، ظلم ، زیادتی اور انصاف کے منافی ہے، بارہ دسمبر کو پارلیمنٹ ہاوس کے سامے دھرنہ فاٹا کے عوام کی راہ متعین کرے گا،سرتاج عزیز کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ پر تاحال کوئی عمل درآمد نہ کیا گیا،آمدہ الیکشن سے قبل فاٹا اصلاحات کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا، فاٹا کو کے پی کے میں ضم کیا جائے ، سر زمین بے آئین کا کوئی نہ کوئی حل ناگزیر ہے،امیر جماعت اسلامی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے بارہ دسمبر کو پر امن دھرنا میں ہزاروں افراد شرکت کریں گے ، جماعت اسلامی نے ہمیشہ فاٹا کے عوام کے حقوق کی بات کی ،آئندہ بھی جماعت اسلامی کسی مصلحت کا شکار نہ ہوگی،ان خیالات کا اظہار انھوں نے ٹیکسلامیں منعقدہ ایک جرگہ سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا، اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی کے امیر شمس الرحمان سواتی ، امیر جماعت اسلامی ٹیکسلا پروفیسر وقاص ، نائب امیر ڈاکٹرمسعود احمد خان ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری وحید حیدرشاہ ،رہنما جماعت اسلامی ٹیکسلاعتیق الرحمان کاشمیری، جمیل احمد پیر زداہ ،خواجہ وقار ایڈووکیٹ،ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے رپورٹ پیش کی،جس کی منظوری پارلیمنٹ ، سینیٹ ،کیبینٹ نے اسکی منظوری دی لیکن حکومت اس حوالے سے کوئی بل اسمبلی میں نہیں لارہی،لگتا ہے کہ حکومت شرافت سے کوئی بات ماننے کو تیار نہیں، جس کی وجہ سے فاٹا کے ایک کروڑ سے زائد افراد کو انکو بنیادی انسانی حقوق دلانے کے لئے ہزاروں افراد دس دسمبر کو خیبر ایجنسی بابا خیبر سے نکلیں گے، جبکہ بارہ دسمبر کو دھرنا کے شرکاء دس بجے صبح فیض آباد پہنچے گے اور امیر جماعت اسلامی کی قیادت میں دھرنے کے شرکاء پارلیمنٹ ہاوس جائیں گے،اور پر امن دھرنا دیا جائے گا،ہاورن الرشید کا کہنا تھا کہ دو نومبر 2015کو جماعت اسلامی کی جانب سے اے پی سی منعقد ہوئی جس میں ایم کیو ایم ، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، دس سے زائد سیاسی جماعتوں نے شرکت تھی جس میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق فاٹا کو کے پی کے ساتھ ضم کیا جائے، خود مسلم لیگ ن بھی شامل تھی،اب رکاوٹ کس بات کی ہے،حکومت کو فوری طور پر اس پر عمل درآمد کرنا چاہئے،فاٹا کے ایک کروڑ عوام کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ فاٹا کو سر زمین بے آئین ڈکلیر کیا گیا ہے،پاکستان کے قوانین وہاں لاگو نہیں ، ملک کے مفاد میں ہے کہ فاٹا کے عوام کوسیاسی جمہوری انسانی حقوق ا داء جائیں، ٹیکسلا میں منعقدہ جرگہ سے امیرجماعت اسلامی پی پی آٹھ پروفیسر وقاص ، خواجہ وقار ایڈووکیٹ، امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی شمس الرحمان سواتی نے بھی خطاب کیا، جبکہ جرگہ میں جماعت اسلامی کے کارکنان کے علاوہ پختون قبیلہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی شمس الرحمان سواتی کا کہنا تھا کہ گیارہ دسمبر کو دھرنے کے شرکاء کاواہ ٹیکسلا آمد پر پر تپاک استقبال کیا جائے گا، جرگہ میں پختونوں کی نمائندگی پی ٹی آئی کے رہنما لال زادہ خان کر رہے تھے۔

Share.

Comments are closed.

error: