سی پی او راولپنڈی نے بابر شہزاد قتل کیس کے تفتیشی سب انسپکٹر انور جاوید کو مثل سمیت دفتر طلب کرلیا

0

کہوٹہ(راجہ ساجدجنجوعہ) تھانہ کہوٹہ کے علاقہ بڑوٹہ کی رہائشی زخیا بی بی حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگی ،بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گئی ۔پولیس تھانہ کہوٹہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کے زیر عتاب آگئی ،ایف آئی آر میں نامزد ملزمہ تہمینہ پروین اور اس کے والدین کو تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر انور جاوید وی آئی آئی پی پروٹوکول دینے لگا۔مقتول کی ماں حصول انصاف کیلئے سی پی او آفس پہنچ گئی ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ کہوٹہ کے علاقہ بڑوٹہ میں ایک ماہ قبل قتل ہونے والے بابر شہزاد کی والدہ نے سی پی او آفس میں میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مورخہ 31-10-2017کو میں نے تھانہ کہوٹہ میں تحریری درخواست دی تھی کہ میرے بیٹے بابر شہزاد کو میری بہو تہمینہ پروین اس کے والد محمد شفیق اور والدہ خالدہ پروین کے ساتھ مل کر قتل کرکے رات کی تاریکی میں لاش ہمارے گاؤں بڑوٹہ کے قریب برلب سڑک پھینک گے ہیں،میری درخواست پر پولیس تھانہ کہوٹہ نے مقدمہ درج کرکے تفتیش ایچ آئی یو کے سب انسپکٹر انور جاویدکے سپرد کردی ۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود میرے بیٹے کے قتل کے اصل حقائق نہ تو منظر عام پر آسکے اور نہ ہی ایف آئی آر میں نامزد ملزمہ میری بہوتہمینہ پروین اور اس کے والدین کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔میں متعدد بار تھانہ کہوٹہ کے چکر لگا چکی ہوں لیکن میری کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ۔مقتول کی ماں نے بتایا کہ تفتیشی آفیسر انور جاوید گزشتہ ایک ماہ سے کہہ رہا تھا کہ بابر شہزاد کا موبائل ریکارڈ لے کر تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا گزشتہ روز تفتیشی آفیسر نے ہمیں تھانہ بلا کر کہا کہ بابر کے موبائل ڈاٹا میں کچھ نہیں آیاجبکہ ملزمہ تہمینہ پروین اور اس کے والدین کے موبائل ریکارڈ نہیں مل سکے ،مقتول کی ماں نے مزید بتایا کہ تفتیشی آفیسر انورجاوید نے کہوٹہ کی ایک اہم سیاسی شخصیت کے ساتھ ساز باز کررکھی ہے اور ہمارے مقدمہ میں جان بوجھ کر لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔جس کی وجہ سے میرے مقدمہ کی تفتیش انتہائی سست روی کا شکار ہے ۔مجھے انصاف ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔تفتیشی آفیسرنامزد ملزمہ اور اس کے والدین کو وی آئی پی پروٹوکول دے رہا ہے،مقتول کی ماں نے سی پی او راولپنڈی اسرار عباسی سے انصاف کی اپیل کی ہے ۔ادھر سی پی او راولپنڈی نے تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر انور جاوید کو مثل سمیت دفتر طلب کرلیا ہے۔

Share.

Comments are closed.

error: