پارٹی میں نہ کوئی فارورڈ بلاک بن رہا ہے نہ مسلم لیگ ن میں کوئی گروپ بندی ہے،چوہدری نثار علی خا ن

0

ٹیکسلا (ڈاکٹر سید صابر علی ، بیوروچیف پوٹھوار لنک ڈاٹ کام )مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خا ن نے کہا ہے کہ پارٹی میں نہ کوئی فارورڈ بلاک بن رہا ہے نہ مسلم لیگ ن میں کوئی گروپ بندی ہے،پارٹی کے ساتھ کھڑا ہوں مگر خوشامدی گروپ کے خلاف ہوں، میری ترجیحات سب کے سامنے عیاں ہیں، پہلے میری باتوں کی تشہیر نہیں ہوتی تھی اب ہوتی ہے،،وزارت داخلہ سے علیحدہ ہونے سے زیادہ بڑاپیغام کچھ نہیں ہوسکتا،تاہم پارٹی سے علیحدہ ہونے کا پیغام منفی ہو سکتا تھا،کسی بھی میڈیا چینل کے خلاف تحقیقات سے پہلے مقدمہ کا اندراج غیر مناسب عمل ہے،مہذب اورجمہوری ممالک میں فیصلے عدالتوں میں ہوتے ہیں،ملک میں جمہوریت بھی ہے اور رول آف لا بھی ہے،فیصلے عدالتوں میں ہونے چاہئیں،امید ہے عدالتیں فیصلہ حقائق پر کریں گی،ہمیں اپنا کیس عدالت میں لڑنا چاہئے،عدالت سے کسی قسم کی محاز آرائی نہیں ہونی چاہئے،یہ میاں نواز شریف ، پارٹی، ملک اور عدالتوں کے لئے بھی ٹھیک نہیں ہے،پاکستان کی افواج اس وقت ایک جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے،اور اللہ کے فضل سے وہ اس جنگ میں مسلسل فتح حاصل کر رہے ہیں،ہمیں اس وقت انکے ساتھ کھڑا ہوبنا چاہئے،یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ حکومت میں اور پاک افواج میں تفریق ہے،ان خیالات کا اظہار انھوں نے کوہستان ہاوس ٹیکسلا میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ جس پارٹی کے ساتھ گزشتہ 33 سالوں سے ہوں اسی کے ساتھ کھڑا ہوں ہاں البتہ اپنا مشورہ ضرور دونگا،کوشش کرونگا جو پارٹی کے بہترین مفاد میں ہے اس کے مطابق پارٹی کو مشورہ دوں،جب میں نے سمجھا کہ اب حکومت اور پارٹی کو نقصان ہوگا تو میں نے اپنے آپ کو وزار ت سے الگ کردیا ، اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے دوبارہ وزارت سے معذرت کی، ہمیں فائدہ یا نقصان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے،2013 سے پہلے کسی موقع پر پارٹی سے اظہار ناراضگی نہیں کیا،اس کے بعد مختلف واقعات میں اپنے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکا اظہار کیا،لگتا تھا کہ میری آراء اور تجاویز کو منفی انداز میں لیا جاتا رہا جس کا اثر یہ ہوا کہ مجھے اس مشاورتی عمل سے الگ کردیا گیا،ساری عمر ایک پارٹی کے ساتھ کمٹمنٹ نبھائی ،اپنے مزا ج کے مطابق کئی تلخ باتوں کا اظہار بر ملا کیا،اصل وفاداری یہی ہے، انکا کہنا تھا کہ پارٹی فیصلوں کے برعکس اداروں سے محاز آرائی کی خلاف ورزی کیوں ہورہی ہے،ہماری حکومت اور وزیر اعظم وزیر اعلیٰ کا کام ہے اس کا نوٹس لیں،وزرا ء بیان بازی کی بجائے اپنے گھر کو صاف کرنے پر توجہ دیں،ان عوامل سے ملک دشمن قوتوں کو تقویت ملتی ہے،مہذب اورجمہوری ممالک میں فیصلے عدالتوں میں ہوتے ہیں،اگر فیصلے عدالتوں نے ہی کرنے ہیں تو ہمیں انکے ساتھ کسی قسم کی محاز آرائی نہیں کرنی چاہئے،انصاف عدالتوں سے ہی ملے گا،حقانی نیٹ ورک کا خاتمہ امریکہ سے مل کر نے کے ایک سوال پر جواب میں انکا کہنا تھا کہ انتہائی تشویش ناک بیان ہے کسی بھی خود مختار ملک کو اپنے علاقہ کے اندر آپریشن کی اجازت دے سکتا ،پاکستان ایک نیو کلیر طاقت ہے،ہمیں اپنی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی صلاحیتوں پر فخر ہے،بیان ملک کے لئے تضحیک آمیز ہے اس کی تردید ہونی لازم ہے،پاکستان کی سیکورٹی فورسز میں یہ صلاحیت ہے جس نے ملک میں سینکڑوں کامیاب آپریشن کئے ہیں،اگر جوائنٹ آپریشن کی تجویز کسی نے دینی ہی ہے تویہ سب کچھ بائی لیٹر ہونا چاہئے،اگرپاکستان کے ا ندر آپریشن ہونا ہے تو افغانستان میں بھی ہونا چاہئے،اگر کسی کو کوئی شک ہے کہ پاکستان کے اندر کوئی دہشتگرد گروپس ہیں تو ہمارے پاس تو ثبوت ہیں کہ افغانستان کے اندر دن کے اجالے میں ایسے گروپس ہیں جو آپریٹ کر رہے ہیں،اور یہ ذمہ داری صرف افغانستان کی نہیں وہاں چودہ ہزار غیر ملکی فوج ہے جس میں اکثریت امریکہ کی ہے،وہاں امریکہ کی ملٹری کمانڈ ہے،پاکستان کی سیکورٹی فورسز کسی بھی آپریشن کے لئے بھرپور صلاحیتیں رکھتی ہے،شیخ رشید کے حوالے سے سوال پر جواب دیتے ہوئے چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کی خواہشوں کے مطابق سیاست نہیں کرنی،ضمیر کے فیصلوں پر لبیک کہتا ہوں،نہ انکے سوالوں کا جواب دینا مناسب سمجھتا ہوں، سوشل میڈیا پر غیر مناسب اپ لوڈنگ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ میرے دور میں وزارت داخلہ متحرک تھی سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی سخت لائح عمل اختیار کیا گیا، ایف آئی اے میں اس حوالے سے مختلف مقدمات بھی درج کئے گئے جس کے بعد اس عمل میں سدابب ممکن ہوا،

Share.

Comments are closed.

error: