این اے پچاس کی سیاسی ڈائری

0

معلوم نہیں کہ مقررہ وقت پر انتخابات ہوں گے یا نہیں،کیونکہ کچھ حلقہ یہ بھی کہ رہے ہیں کہ کچھ ’’ایماندار‘‘اور ’’صالح‘‘لوگوں کو تین سال کے لئے قومی حکومت کے نام پر عوام پر ٹھونسا جائے گا جو کہ بلاتفریق احتساب کریں گے اور ملک کو زبوں حالی سے نکالیں گے۔اللہ رحم کرے ملک عزیز پر کیونکہ سے ملتے جلتے تجربات اس سے قبل بھی کیئے جاچکے ہیں لیکن ہر نئے تجربہ نے اس ملک کو مزید مسائل اوربدعنوانی کی دلدل میں دھنسایا۔یاد رہے کہ اگر جمہوریت کو صحیح معنوں میں آزادی سے کام کرنے دیا جائے تو ارتقائی عمل سے ہی یہ ملک ٹھیک ہوگاکیونکہ یہ ملک بھی صرف جمہوری عمل کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔
تمہید کچھ لمبی ہوگئی اب آتا ہوں اصل موضوع کی طرف کیونکہ جب تک خبریں حقیقت کا روپ نہیں دھارتیں اس وقت تک سیاستدان مستقبل قریب میں ہونیوالے انتخابات کے لئے ابھی سے کمر کس لی ہے۔ اس تحریر میں بالخصوص قومی اسمبلی کے حلقہ این اے پچاس جوکہ تحصیل مری،کوٹلی ستیاں،کہوٹہ اور تحصیل کلرسیداں کے مرکز چوآخالصہ پر مشتمل ہے پر روشنی ڈالی جائے گی جبکہ ضمنی طور پر صوبائی اسمبلی کے حلقہ دو پر بھی نظر ڈالی جائے گی۔ قومی اسمبلی کے لئے 2018کے انتخابات کے لئے مسلم لیگ ن کی جانب سے حسب سابنق موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ہی امیدوار ہوں گے۔جماعت اسلامی کی جانب سے سجاد عباسی یا پھر سفیان عباسی کا نام چل رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دو امیدوار اس وقت ٹکٹ کیلئے میدان میں موجود ہیں جن میں سابق ضلع صدر شوکت علی عباسی اور آصف شفیق ستی شامل ہیں۔ دونوں تحصیل کوٹلی ستیاں کے رہائشی ہیں۔ کوٹلی ستیاں اور مری کی تحصیلیں پی پی ایک میں شامل ہیں اور دونوں کی ترقی کی صورتحال ایسی ہی جیسے وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب کی ہے ۔ مری ایک ترقی یافتہ تحصیل جبکہ کوٹلی ستیاں اک پسماندہ تحصیل ہے۔پی پی کے دونوں امیدواران اپنے انپے انداز میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آصف شفیق ستی نے گزشتہ ہفتہ کے دن کلر،کہوٹہ،مری اور کوٹلی ستیاں میں اپنی باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز ریلی سے کیا ہے۔ ریلی مختلف مقامات سے شروع ہوئی۔ کلرسیداں کی ریلی کہوٹہ کے مقام پر تحصیل کہوٹہ کی ریلی میں شامل ہوئی اور لہتڑار کے مقام پر مرکزی ریلی میں شامل ہوئی۔ مرکزی ریلی کھنہ پل سے شروع ہوئی۔ مری کی ریلی کوٹلی شہر میں مرکزی ریلی میں شامل ہوئی۔ ریلی میں تمام تحصیلو ں کی نمائندہ تنظمیں شامل تھیں لہتڑار اور کوٹلی ستیاں شہر میں استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے۔ ریلی نے اختتامی مقام ملوٹ ستیاں پر جلسہ کی شکل اختیار کرلی جس میں آصف شفیق ستی، سابق ایم پی اے شفقت عباسی ایڈووکیٹ، ممبر فیڈرل کونسل جبار ستی ، صدر پی پی مری نذیر عباسی ایڈووکیٹ،صدر پی پی کوٹلی ستیاں اسد ستی،جنرل سیکرٹری پی پی کہوٹہ چوہدری خالدسمیت دیگر مقررین خطاب کیا۔ اس ریلی نے حلقہ کی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔ سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی حلقہ این پچاس کے کارکن اس کامیاب ریلی پر پھولے نہیں سما رہے۔ پی پی کارکنان اس کامیاب ریلی کے بعد اک نئے جذبے کے ساتھ میدان عمل میں اتر آئے ہیں۔ صوبائی حلقہ پی پی ایک پیپلز پارٹی تحصیل کوٹلی ستیاں کے علاقہ میں پہلے ہی مضبوط پوزیشن پر ہے کیونکہ پی پی نے ہی کوٹلی ستیاں کے عوام کا بلدیات میں ہونے والے ظلم کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور تا حال یہ جنگ سابق ایم پی اے شفقت عباسی لڑرہے ہیں۔اس کامیاب ریلی نے تحریک انصاف کے متوقع راہنما غلام مرتضیٰ ستی کے غبارہ سے ہوا نکل گئی ہے کیونکہ مرتضیٰ ستی کوٹلی ستیاں کے علاقہ اور پی پی کے تمام ووٹ کو اپنا ووٹ سمجھ کر کیش کروا رہے تھے۔اسی امید پر ا ن کو تحریک انصاف میں خوش آمدید کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ پیپلز پارٹی کا چون ہزار ووٹ بھی لائیں گے اور تحریک انصاف کی چوالیس ہزار بھی ان کو مل جایءں گے۔ یوں مرتضیٰ ستی کی صورت میں تحریک انصاف یہ نشست جیت لے گے۔مرتضی ستی تاحال اپنی سابقہ جماعت سے کوئی خاص گروپ توڑ کر اپنے ہمراہ نہیں لاسکے ہیں۔ غلام مرتضیٰ ستی کو اس ریلی سے بہت بڑا سیاسی دھچکہ پہنچا ہے ۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق اب تحریک انصافکے ٹکٹ کا حصول مرتضیٰ ستی کیلئے اور زیادہ مشکل ہو گیاہے۔دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے سابق امیدوار برائے ایم این اے صداقت عباسی بھی انتہائی زیادہ متحرک ہیں اور حلقہ میں اپنی قربانیوں کا صلہ ٹکٹ کی صورت میں مانگ رہے ہیں۔گذشتہ ہفتہ میں ضلع راولپنڈی اور تمام تحصیل لیول کی تنظمیں تحلیل کر دی گئی تھیں۔کچھ حلقے اس کو بھی صداقت عباسی اور مرتضیٰ ستی کی داخلی جنگ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں جس میں بظاہر جیت صداقت عباسی کی ہوئی ہے اور شنید ہے کہ اب ٹکٹ صداقت عباسی کو ہی ملے گا۔حلقہ پی پی دو سے سابق رکن اسمبلی ملک شبیر اعوان بھی غلام مرتضیٰ ستی کی کھلے عام مخالفت کر رہے ہیں ان کیے یونین کونسل کے آزاد چیئرمین راجہ علی اصغر نے سابق ایم پی اے موجودگی میں کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے غلام مرتضیٰ ستی کا ٹکٹ دیا تو وہ اس کی ڈٹ کے مخالفت کریں گے ۔
راقم کے تجزیہ کے مطابق اگر حلقہ این پچاس میں ن لیگ کا ٹکٹ شاہد خاقان عباسی ،جماعت اسلامی کے سجاد عباسیی یا سفیان عباسی اور تحریک انصاف کا ٹکٹ صداقت عباسی کو ملتا ہے اور پی پی کا ٹکٹ آصف ستی کو تو اس صورتحال میں آصف ستی ایک مضبوط امیدوار ہوں گے نشست کے۔ تحریک انصاف کا ٹکٹ مرتضیٰ ستی کو ملتا ہے تو پھر شاہد خاقان عباسی کی جیت یقینی ہے۔حلقہ پی پی دو میں مسلم لیگ ن کے پارٹی امیدوار موجودہ رکن اسمبلی راجہ محمد علی ہی ہوں گے جبکہ وزیراعظم کے حمایت یافتہ آزاد امیدوا ر راجہ صغیر ہوں گے۔ جماعت کی جانب سے بھی امیدوار نامزد کر دیا گیاہے۔تحریک انصاف کے سابق ٹکٹ یافتہ طارق مرتضیٰ اور راجہ وحید سخت مقابلہ ہے۔ راجہ وحیدکہوٹہ شہر کی حد تک کافی اثررکھتے ہیں۔ البتہ اب کسی حد تک طارق مرتضیٰ بھی متحرک ہو چکے ہیں۔ غلام مرتضیٰ ستی حسب سابق تین چار امیدواران ایم پی اے کی حمایت کررہے ہیں۔حلقہ پی پی دو میں پیپلز پارٹی کی جانب سے نوجوان وکیل عقیل احمد ستی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ تحصل صدر آصف ربانی قریشی یا انے کے صاحبزادے بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ حلقہ میں اہم انتخابی حرکت یہ ہوئی کہ حلقہ پی پی دو کی یونین کونسل نلہ مسلماناں جوکہ تحصیل کلرسیداں میں شامل ہے کے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے چیئرمین چوہدری شفقت نے بھی صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا با ضابطہ اعلان کردیا ہے۔ چوہدری شفقت کو آزاد چیرمینوں راجہ علی اصغر،سید راحت علی اور راجہ شتیاق سمیت راجہ محمد علی سے ناراض ن لیگی دھڑے کا ساتھ مل سکتا ہے۔ چوہدری شفقت کو غلام مرتضیٰ ستی تحریک انصاف میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ خاندان دوستوں اور علاقہ کی سیاسی صورتحال چوہدری شفقت کا پیپلز پارٹی میں شامل ہونے پر مجبو رکررہے ہیں۔چوہدری شفقت اگر پیپلز پارٹی میں شامل ہوتے ہیں تو ان کے لئے جیت کا یہ سہنری موقع ہو گا ۔

Share.

Comments are closed.

error: