پی ٹی آئی برطانیہ کا ویلز کے شہر نیو پورٹ میں اہم مشاورتی اجلاس

0

پریس ریلیز مرکزی میڈیا سیل۔ پی ٹی آئی یوکے

مورخہ 8 اکتوبر 2017 کو پورے برطانیہ سے پی ٹی آئی یوکے کی منتخب ارکان ویلز کے شہر نیو پورٹ میں جمع ہوئے اور اپنا آگے کا لائحہ عمل مرتب دیا

اس میٹنگ کی صدارت صدر پی ٹی آئی برطانیہ ریاض حسن نے کی جبکہ انکو جنرل سیکرٹری عبدالباسط شاہ مشوانی، سیکرٹری اطلاعات رانا جہانزیب کی معاونت حاصل تھی
اس موقع پر سب سے پہلے برما کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی گئی اور انکے لئے اسپیشل دعا کی گئی

اسکے بعد 8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ میں کشمیر اور کے پی کےمیں گزر جانے والے افراد کیلئے خصوصی دعا کی گئی

میٹنگ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پوری دنیا کے پاکستانی بالخصوص پی ٹی آئی کے سپورٹرز آئندہ آنے والے الیکشن میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں اسکے لئے وہ بھرپور تعاون کرینگے اور ہمیشہ کی طرح آئندہ الیکشن میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لینگے

میٹنگ اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ الیکشن میں اپنے اپنے علاقے کے لوگوں کو قائل کرینگے اسکے لئے ہم خود پاکستان جاکر ڈور ٹو ڈور کمپئن چلائینگے
اور جو لوگ نہیں جاسکتے وہ یہیں بیٹھ کر ٹیلیفون پر کمپین چلائینگے
اس مقصد کیلئے بالخصوص 50 حلقہ انتخاب نامزد کئیے جائینگے جن پر خصوصی توجہ اور کامیابی حاصل کرنے کیلئے حلقہ امیدوار کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی

پاکستان کی موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہاں یوکے سے اپنے معیشیت، قانون دوسرے شعبوں کے ماہر افراد پر مشتمل ڈیلیگیشن پاکستان بھیجیں گے جو وہاں پر لیڈرشپ سمیت دیگر کی سٹیک ہولڈرز افراد سے میٹینگ کرکے وہاں کی گراؤنڈ رئیلٹی پر رپورٹ تیار کرینگے تاکہ اسکے مطابق یہاں یوکے سے مدد فراہم کی جاسکے پاکستان کی اکانومی کو بوسٹ دیا جاسکے
قانون کی بالادستی قائم کرنے کیلئے،حق رائے دہی سمیت سمندر پار پاکستانیوں کے دیرینہ مسائل کے حل کیلئے پاکستانی وکلاء سے ملکر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا
اسی عمل کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اگلے ماہ میں ایک بڑی کنونشن منعقد کی جائیگی جس میں پورے برطانیہ سے اپنی فیلڈ کے ایکسپرٹ لوگوں کو مدعو کیا جائیگا۔ جہاں پاکستان سے سینئر لیڈر شپ اس کنونشن میں شرکت کریگی اور پارٹی پالیسی کا اعلان کیا جائیگا

سمندر پار پاکستانیوں کا حق رائے دہی
سمندر پار پاکستانیوں کو حق رائے دہی ملنا چاہئے
یہ ایک بنیادی حق ہے جو پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں ملنا چاہئے۔
ہم بہت جلد پوری دنیا کے پاکستانیوں کو بلا کسی سیاسی پارٹی یا مذہبی فرقے کی تقسیم کے سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے پاکستان کی اعلی ترین عدالت کے سامنے اس مسلے کو رکھیں گے اور ایک نئی پٹیشن جمع کروائی جائیگی
اسکے لئے اگر ہمیں احتجاج کا راستہ بھی اپنانا پڑا تو ہم وہ بھی اپنائیں گے اور پوری دنیا میں پاکستانی سفارت خانوں کے سامنے ایک وقت احتجاج کرینگے
اور اسکے لیے ہم ملکر ایسی پالیسی مرتب کرینگے کے تمام پارٹیوں کے نمائندگان اپنی اپنی پارٹی سے مطالبہ کریں کہ پارلیمنٹ میں اس مسلے کو اٹھایا جائے اور اس کے حل پر پورا زور لگایا جائے۔

 

Share.

Comments are closed.

error: