بلدیہ ممبران کلرکوطعنے دینے والے چیئرمین

0

چودھری نثارعلی خان جب اس علاقہ میں آئے توان کے بارے میں مشہور تھاکہ وہ ترقیاتی کام بہت زیادہ کراتے ہیں۔ اس لئے لوگوں نے انھیں سرآنکھوں پر بٹھایا۔ یہاں پہلے کی لیڈرشپ، شاہدظفرسے لے کراعجازالحق تک، ترقیاتی کاموں بارے گنگی تھی۔ لوگ ان سے تنگ تھے، اسی لئے جب چودھری نثارعلی خان نے اس علاقہ کو اپناحلقہ انتخاب بنایاتو انھیں جیتنے کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت پیش نہ آئی۔ وہ جیتے رہے لیکن مشرف کے دورحکومت کے باعث ترقیاتی کام، اس زور شور سے نہ ہوسکے ، پنجاب میں بھی پرویزالہیٰ کی حکومت تھی ، اس لئے ان کے حصے میں ترقیاتی فنڈزآناناممکن تھا۔ جب مرکز میں پی پی اور پنجاب میں میاں شہبازشریف کی حکومت آئی توچودھری نثارعلی خان نے اسے آدھااقتدارقراردیتے ہوئے یہاں ترقیاتی کاموں کاایک سلسلہ شروع کرایا۔ پھر جب اوپرنیچے (ن) کی حکومتیں آئیں تویہاں ترقیاتی کاموں کی بھرمار کردی گئی ۔ ان کے ترقیاتی کاموں کوگنواناوقت کاضیائع ہے، یہ ہرکسی کویاد ہیں کیوں کہ ہم ہرروز ان کے ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ حاصل کررہے ہیں۔
چودھری نثارعلی خان کی یہ ادابھی پسند کی گئی کہ وہ قبضہ گروپ ہیں نہ بہ ظاہر کسی قبضہ گروپ کے پشتی بان۔ بھتہ مافیاکوناپسندکرتے ہیں اور سب سے بڑی بات سچ بات منہ پرکرتے ہیں اور منافقت سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے معاونین نے بھی ان کے بارے میں بتایاکہ وہ انتہائی سخت مزاج آدمی ہیں، یہ بات ذہنوں میں پہلے ہی موجودتھی اور جب وہ یہاں آکرجلسوں میں اپنے کسی نہ کسی ساتھی کوسب کے سامنے ٹوک دیاکرتے تھے ، تومعاونین کی باتیں عملی طورپر بھی سچ ثابت ہونے لگیں، یوں ان کے مقامی قائدین اور ورکرز ان سے ڈرنے لگے۔
ایم سی کلرسیداں کی چیئرمینی کے حوالے سے جو بھی معاملات تھے، وہ سب کے سامنے ہیں، اور آپ سب کوایک ایک بات یاد ہوگی۔ کس طرح زاہدی گروپ بنا، کس طرح حاجی اخلاق وائس چیئرمین نامزد ہوئے، کس طرح ان کی جگہ چودھری ضیارب سامنے آئے اور کس طرح الائیڈ سکول میں سب سے سامنے ممبران بلدیہ کوڈانٹاگیا۔ انھیں وہاں چرتک نہ کہنے کاطعنہ دیاگیا۔
حاجی اخلاق حسین اور زاہدی گروپ کومشورے دیئے گئے کہ آپ فوری مستعفی ہوجائیں، یہ بہت بڑی زیادتی ہے، یہ توہین ہے، آپ کسی کے غلام نہیں، آپ بزدلوں کی طرح پارٹی سے کیوں چمٹے بیٹھے ہیں لیکن انھوں نے کمال ضبط سے کام لیتے ہوئے کوئی ابھی انتہائی قدم اٹھانے سے انکار کردیا۔ یہ طعنے دینے والوں میں سب سے پیش پیش یونین کونسلوں کے چیئرمین تھے اور خاص طورپر روات سائیڈ کے چیئرمین ۔ اکثرچیئرمینوں کاکہناتھاکہ اگرہمارے ساتھ یہ ہوتاتوہم ایک دن بھی اس تنخواہ پر کام نہ کرتے بل کہ سامنے اٹھ کربات کرتے ۔ یہ باتیں ہوتی رہیں اور پھروقت نے مرہم لگایا، ممبران بلدیہ کے زخم بھرے ہی تھے کہ طعنہ زنی کرنے والوں کی باری آگئی۔
زمین چوں کہ گول ہے، اس لئے چکرکاٹتی ہوئی اب کی بارچودھری نثارعلی خان کوممبران بلدیہ کے بجائے چیئرمینوں کے دوبدوکردیا۔ چیئرمینوں کودیئے گئے ترقیاتی فنڈز خرچ کرنے کے لئے کمیٹی بنائی گئی جوکہ ترقیاتی کاموں کی نگران ہوگی اور جو کمیٹی ہارنے والے لیگیوں کوبھی مساوی حصہ دے گی۔ چیئرمین پھڑک اٹھے۔ انھوں نے بھی وہی اندازاپنایا، اخباری بیانات کی دھول اڑنے لگی۔ کمیٹی کوناقابل قبول قراردیاگیا، بل کہ اسے آمریت کی مثال تک قراردیاگیا۔ کمیٹی کی موجودگی میں ترقیاتی کام کرانے سے انکار تک کیاگیا۔ یہ اخباری بیانات جب سابق وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان تک پہنچے توانھوں نے عوامی جلسہ بلانے کے بجائے معززچیئرمینوں کوپنجاب ہاوس بلایا۔ یہاں ان سے وہی خطاب کیاگیا جو بلدیہ ممبران کوسنایاگیاتھا۔ وہی الفاظ تھے، وہی لہجہ تھااور اسی گھن گرج کے ساتھ کہاگیا کہ جو اصول پرست ہے وہ میرے ساتھ چلے، یہاں سب کی مشاورت سے کمیٹی بنائی گئی تھی کسی کواعتراض تھا تویہاں کیاہوتا، بعدمیں اخباری بیانات کی کیاتُک بنتی ہے۔ چودھری نثارعلی خان نے یہاں تک کہہ دیاجو میرے ساتھ رہناچاہتاہے بسم اللہ جوجاناچاہتاہے خداحافظ۔ لیکن وہی چیئرمین جوبلدیہ ممبران کوطعنے دیاکرتے تھے بزدلی کے ، اس موقع پر اسی طرح چپ رہے جس طرح یہ چپ رہے تھے، انھوں نے بھی چرتک نہ کی۔ یہاں توعوامی جلسہ تھا، وہاں توبندے نہیں تھے، چیئرمینوں کواگرکمیٹی پر تحفظات تھے ، تو بول اٹھتے ، مگرکسی کوہمت ہوئی اورنہ ہوسکتی تھی۔ چودھری نثارعلی خان کی سیاست سے لاکھ اختلاف کیاجاسکتاہے لیکن ان کی جرات اور بہادری پر کوئی دورائے نہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی ہے، وہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے منہ پر سچی بات کہتے نہیں چوکے، اور سچ بات یہ ہے کہ بلدیہ ممبران اور چیئرمینوں کی طرح میاں نوازشریف کوبھی جرات نہ ہوئی کہ وہ پلٹ کرجواب دیتا۔

Share.

Comments are closed.

error: