نو مہینے اور ۲۲ دن

0

1عمران خان کو جتنی شہرت ملی ہے وہ شاید دنیا کے کم ہی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے ،پہلے انہوں نے بطور کھلاڑی دنیا بھر میں اپنا نام بنایا اور پھر سیاست میں آ کر سیاست کو ایک نئی ڈگر پر چلانے کی کوشش کی جس مقصد کے لئے انہوں نے الیکٹرونک میڈیا کو اپنا ہتھیار بنایا اور ۲۰۱۳کے جنرل الیکشن کے دوران میڈیا پر ایک بڑے پیمانے پر مہم چلائی اس کاایک فائدہ توانہیں ہوا کہ وہ لوگوں کو جلسہ گاہ تک لانے میں کامیاب ہو گئے لیکن وہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لے کر لانے میں اس حد تک کامیاب نہ ہو سکے جس قدر ان کے جلسوں سے اندازہ لگایا جا رہا تھا ،عمران خان جنرل الیکشن میں خاطر خواہ کامیابی تو حاصل نہ کر سکے لیکن ایک بڑی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے ضرور آئے جس میں ایک بڑا ہاتھ میڈیا کا بھی تھا،انہیں بلاشبہ ’کنگ آف میڈیا‘ بھی کہاجا سکتا ہے.
۲۰۱۳کے الیکشن کے بعد عمران خان دھاندلی کا راگ الاپتے نظر آئے اور اپنے تبدیلی کے نعرے کو تقویت دے کر عوام کی ایک بڑی تعداد لے کر اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے اور شاید زندگی کے ایک اہم موڑ پر آ کر کھڑے ہو ئے ، یہ وقت ان کی سیاسی زندگی کے لئے تو اہم تھا ہی لیکن دوسری طر ف ان کی ذاتی زندگی کی متعلق بھی چہ موگوئیاں ہونے لگی ان چہ موگوئیوں کو اس وقت ہواملی جب عمران خان نے خود جلسے میں’ نیا پاکستان‘ بننے کے بعد شادی کرنے کا اعلان کرکے عوام کی توجہ اس طرف دلوائی اس کے بعد ہر لڑکی ہی عمران کے دلہن بننے کے خواب دیکھنے لگی،اور شاید دھرنے میں لڑکیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔
اسی دوران پاکستان میڈیا انڈسٹری میں ایک نیا چہرہ ابھرا جس نے اپنا تعارف ریحام خان کے نام سے کرایا اور صوبہ کے۔پی ۔ک اور و ہاں کی حکومت کو اپنا ہدف بنانے کے ساتھ ساتھ دھرنے پر بھی خصوصی توجہ دی اور بعض اطلاعات کے مطابق رات تین تین بجے تک بھی دھرنے میں پائیں گئی۔بعد میں انہی متحرمہ کے ساتھ عمران خان نے شادی کر لی اور شادی کی میڈیا پر خوب تشہر بھی کی اس شادی کے ساتھ ہی بہت سے سوالوں نے جہنم لیا جو کے ابھی جواب طلب تھے ہی کے یہ شادی ۹ میہنے اور ۲۲ دن چلنے کے بعد ختم ہو گئی اور اپنے پیچھے ایک نہ ختم ہونے والی بحث چھڑ گئی جس پر ہر طبقہ فکر نے اپنی اپنی رائے دی جس میں بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے لیکن بعض لوگوں کی رائے اس کے بر عکس تھی کہ کسی بھی سیاسی رہنما کی زندگی کے ساتھ عوام کی توقعات جڑی ہوتی ہیں اس لئے انہوں تمام فیصلے انتہائی سوچ سمجھ کر کرنے چاہیں،گتھی کو سلجھانے کے لئے حمید گل کے بیٹے عبداللہ گل میدان میں آئے اور بہت سے سوالوں کے جواب واضح کیے،ان کا کہنا تھا کہ’ میرے والدصاحب نے عمران خان کو ریحام خان سے شادی کرنے سے منع کیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ یہ عورت تمہارے لئے ٹھیک نہیں ہے لیکن عمران خان نے ان کی بات نہیں مانی حلانکہ سب جانتے ہیں کہ وہ بغیر ٹھوس ثبوت کے کوئی بات نہیں کہتے تھے،
عبداللہ گل کے اس بیان کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے عمران خان نے بغیر سوچے سمجھے ،بغیر کسی سے مشورہ لیے اور جلد بازی میں شادی کا فیصلہ کیا تھا جو کامیاب نہ ہو سکا اب اس کو چاہے کسی کی سازش قرار دیا جائے یا کالے جادو کا اثر،ایک عوامی لیڈر کا ایسے فیصلوں سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس ضرور پہنچتی ہے۔

محمد سکندر چودھری

ادارے کا رائیٹر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share.

Comments are closed.

error: