مقامی قیادت ہی مسائل کا حل کر سکتی ہے

0

MONO-GRAM-ASHFAQ-300x2151-300x215-300x215پورے ملک میں سیاسی فضا بہت گرم ہو چکی ہے خصوصاََ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد سے تحصیل کلر سیداں میں بھی سیاسی ہلچل مچ چکی ہے تمام امیدوار پوری آب و تاب کے ساتھ میدان یں اتر چکے ہیں اپنے سیاسی ڈیرے آباد کرنے کے لیے پرانے سیاسی ساتھیوں کے ساتھ نہ صرف میدان سیاست میں سر گرم ہو گئے ہیں بلکہ پرانے ناراض سا تھیوں کے منانے کے لیے بھر پور کوششوں میں مصروف نظر آرہے ہیں کچھ مقامی سیاسی رہنما اپنی اپنی جماعتوں سے نالاں بھی نظر آرہے ہیں لیکن ایسا بہت کم دکھائی دے رہا ہے بلدیاتی الیکشن کا یک مرحلہ نہایت خوش اسلوبی سے طے ہو چکا ہے بعض جگہوں پر چند نا خوشگوار واقعات سننے کو ملے ہیں دوسرا مرحلہ بھی اللہ کے فضل و کرم سے 19 نومبر کو طے ہو جائے گا جب کہ تیسرے مرحلے کے لیے چند گنے چنے دن باقی ہیں ہر الیکشن اپنی اہمیت کے اعتبار سے اہم ہی ہو تے ہیں لیکن بلدیاتی الیکشن کا مزہ کچھ اپنا ہی ہوتا ہے ہر شخص یہ محسوس کر رہا ہے کہ یہ الیکشن اس کا ذاتی ہے کیوں کہ ہر چہرہ بلیداتی خوشی سے مہکتا دکھائی دے رہا ہے ہر طرف خوشیاں محسوس کی جارہی ہیں کیوں کہ ہر گلی محلے میں کوئی نہ کوئی امیدوار موجود ہے اور ہر شخص کے ساتھ ان کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار موجود ہے جس کے باعث بلدیاتی الیکشن عوامی الیکشن کہلاتا ہے دوسری سے بڑی وجہ یہ ہے کہ این این ایز اور ایم پی ایز تک ہر شخص کی رسائی نہایت ہی مشکل کا م ہو تا ہے اور ان سے کام نکلوانا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی ہے لیکن چیئرمین و وائش چیئرمین اور جنرل کونسلرز لوکل ہوتے ہیں اور ان کا شمار عام لوگوں میں ہو تا ہے جس کی وجہ سے ہر آدمی ان تک بہت آسانی سے پہنچ سکتا ہے اور کسی بھی طریقے سے اپنا کام نکلوا لیتا ہے ادھر بلدیاتی نمائندوں کو بھی ا س بات کا احساس ہو تا ہے کہ کل ہم نے ایک بار پھر عوام میں جانا ہو گا اگر ان کے کسی کام نہ آسکے تو بد نامی کا سامنا کرنا پڑے گا بلدیاتی نمائندے اپنے مقامی عوام کے سامنے جو ا بدہ ہو تے ہیں اور ان کو تمام معاملات بڑی احتیاط کے ساتھ چلانا پڑتے ہیں بلدیاتی الیکشن کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ عام کا رکن بھی بڑی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور ان ہی وجوہات کی بنا پر جوں جوں الیکشن کا وت قریب آرہا ہے ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں دکھائی دے رہی ہیں اور عام آدمی بھی بلدیات کی لذت سے مزیں ہو رہا ہے اور عام عوام بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ اب ان کے مسائل ضرور حل ہو ں گئے کیوں کہ اب قیادت ان کے اپنے نمائندوں کے ہاتھ آئے گی جو ان کھے مسائل کو بخوبی جانتے ہیں اور ان کو حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں بڑے مسائل کے ساتھ ساتھ چھوٹی سطح پر کچھ مسائل موجود ہو تے ہیں جن میں لڑائی جھگڑے ،خاندانی مسائل شامل ہوتے ہیں جن کو بڑی قیادت حل نہیں کر واسکتی ہے ایسے مسائل کو صرف بلدیاتی قیادت ہی حل کروانے کیی صلاحیت رکھتی ہے اور ایسے معاملات میں ان کی مداخلت مسائل حل کروانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کچھ معاملات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو صرف بند کمروں میں ہی حل کروانا مقصود ہو تا ہے اور ایسا صرف مقامی قیادت ہی حل کر سکتی ہے جو اندر کے حالات اندر ہی درست طریقے سے انجام دے سکتی ہے اور شاید انہی تمام حالات کو مد نظر رکھ کر عوام بلدیاتی انتخابات میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے نظر آرہے ہیں اور منتظر ہیں کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے بلدیاتی نمائندے منتخب ہو کر ان کی طرف توجہ دیں ادھر تحصیل کلر سیداں میں سیاسی حالات تھوڑے مختلف ہیں کیوں کہ یہاں پر ن لیگ کی واضح بر تری دکھائی دے رہی ہے جس کی وجہ یہ ے کہ یہاں پر پیپلز پارٹی صرف نا م کی رہ چکی ہے اور پی ٹی آئی اکیلے ہی ن لیگ کا مقابلہ کر رہی ہے اور وہ بھی بہت کم یونین کونسلز میں موجود ہے لیکن جن جگہوں پر پاکستان تحریک انآف کے چند امیدوار موجود ہیں وہاں پر ن لیگ سخت مشکلات سے دو چار ہے اور ن لیگ کو وہ تما م کام کرنا پڑ رہے ہیں جو اس دور میں نہیں ہونا چاہیے تھے اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی تما یونین کونسلز میں اپنے امیدوار کھڑے کر دیتی تو ن لیگ مزید مشکلات سے دو چار ہو سکتی تھی لیکن تمام مشکلات کے باوجود ن لیگ کے امیدوار ہی زیادہ تر کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ادھر کلرسیداں میونسپل کمیٹی کی کل تئیس وارڈز میں سے سوائے چند کے ن لیگ ہی کامیاب ہو تی دکھائی دے رہی ہے تحصیل بھر کے لیے کل تین ریٹرننگ آفیسر مقرر کیے گئے ہیں جن میں کلر سیداں ٹاؤن کے لیے اسسٹنٹ کمشنر رب نواز منہاس یونین کونسل گف ،بشندوٹ اور غز ن آباد کے لیے ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول ڈیرہ خالصہ حسن محمود بھٹی صاحب اور باقی ماندہ یونین کونسلز کے لیے تحصیل میونسپل آفیسر خالد خان شامل ہیں تینوں آفیسرز نے اپنی اپنی ماتحت یونی کونسلزمیں تمام پولنگ سٹیشنز پر پولنگ سٹاف کی تعیناتی کا عمل مکمل کر لیا ہے اور اب پولنگ سٹا ف کو تربیت دی جارہی ہے جہاں پر پولنگ سے متعلق تمام امور سمجھائے جا رہے ہیں اور اس دفعہ ہر پولنگ سٹیشن پر پہلے کی نسبت اضافی عملہ تعینات کیا جا رہا ہے اور پولنگ بوتھ بھی زیادہ بنائے جا رہے ہیں تا کہ عوام کو ووٹ ڈالنے میں دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ووٹ زیادہ سے زیادہ پول ہو سکے بلداتی الیکشن میں ووٹ ویسے بھی زیادہ تعداد میں پول ہوتے ہیں جب کہ جنرل الیکشن میں اس کا تناسب تھوڑا کم ہی ہو تا ہے بلدیات میں ہر آدمی کوئی نہ کوئی وابستگی ضرو ر رکھتا ہے جس کی وجہ سے ہر آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ووٹروں کو گھروں سے نکالا جائے پولنگ کا وقت بہت قریب آچکا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ 5 دسمبر کو یہ تمام عمل مکمل ہو جائے گا اور اس کے بعد قیادت عوامی نمائندوں کے ہاتھوں میں آجائے گی اور عوام ہی عوام کی قیات کرنے لگ جائے گی عوام ہی عوامی مسائل حل کرے گی چھوٹی سطح کی قیادت چھوٹی سطح پر توجہ مرکوز کرے گی لوگوں کو خاندانی تنازعات حل کرنے میں مدد ملے گی اور ایک طویل عرصے سے خواب دیکھنے والی عوام کے خوابوں کی شاید تعبیر ممکن ہو سکے

Share.

Comments are closed.

error: