پوٹھوہار

0

imageseeeeeeeeeوجہ تسمیہ۔یوں تو مؤرخین نے پوٹھوہار کی کئی وجوہات تسمیہ لکھی ہیں۔کسی نے اسے محمود غزنوی کی زبان سے جاری ہونے والا لفظ قرار دیاہے ،کسی نے پرتھوی راج سے جوڑااور کسی نے اسے بھٹی واڑ بنایاہے۔حقیقت میں یہ مقامی بولی میں بدھ تہذیب کادو لفظی مجموعہ ہے جو یہاں عرصہ دراز تک اپنے عروج پررہی۔پوٹھ(پوٹھ کامعنی پشت مراد مرکز )اور وہار اہل بدھ کی خانقاہ ۔چونکہ یہ علاقہ بدھ مت کے آشرم یابدھ مت کی خانقاہوں کامرکزرہا اس لئے اسے پوٹھوہار کانام بھی اہل بدھ نے دیاتھا۔
محل وقوع۔یہ برصغیر میں دنیا کی بلندترین چوٹیوں کے دامن میں واقع ہے۔یہاں کسی بھی موسم کی شدت نہیں ہوتی نہ یہاں شمال کی طرح برفباری ہوتی ہے اور نہ جنوب کی طرح تپتی گرمی پڑتی ہے۔ جغرافیہ دانوں کے نظریے کے مطابق جنوب میں سمندر کی موجودگی اسے خوشگوار بناتی ہے۔
حدوداربعہ۔اس کے اندر ہردور میں سیاسی ،تہذیبی وتمدنی تبدیلیاں واقع ہوتی رہیں ۔سیاسی طور پر کبھی یہ کشمیر کاحصہ رہا کبھی صوبہ ملتان،کبھی صوبہ لاہور اور کبھی صوبہ کابل سے منسلک رہا اس لئے اس کی حدود کے تعین میں استحکام نہیں رہا۔البتہ صوفیاء میں سے مشہور شاعر وارثؔ شاہ نے ایک شعر میں اس کے حدود اربعہ کاتعین یوں کیا،ان کایہ شعر زبان زد عام ہوگیا۔
درمیان اٹک وجہلم مرغزار سرزمین کجکلاہاں پوٹ ہار
شہنشاہِ جہانگیر نے پنی توزک میں اس کی حدود ہتھیہ تامارگلہ لکھی ہیں ۔ اس کے شمال میں کوہ ہمالیہ اور کوہِ ہندوکش کی بلندترین چوٹیاں ہیں جہاں گلگت ، سوات بلتستان کے علاقے ہیں ،دوسری سمت ضلع نوشہرہ وپشاور ،مشرق میں کشمیر اور بھارت ،جنوب میں دریائے جہلم کے اُس پارضلع گجرات ،مغرب میں ضلع چکوال واقع ہیں۔جغرافیائی لحاظ سے اس کاکٹاپھٹاہونا اسے قرآنی ذوق والوں کے لئے والارض ذات الصدع بناتاہے۔
تاریخی اہمیت۔یہ علاقہ تاریخ کے ہردور میں بڑاپر کشش اور بڑ ی اہمیت کاحامل رہا۔آدم ثانی حضرت نوحں نے اپنے تین بیٹوں سام حام اور یافث کی انسلہ میں روئے زمین کے تمام علاقوں کو تقسیم فرمایا تو خطہ برصغیر حضرت حام کے بیٹوں حضرات ہندوسند کو تفویض فرمایا یہ ہردوحضرات اپنے خاندانوں کے ہمراہ عراق سے روانہ ہوئے درہ خیبر کے رستے سرزمین برصغیر میں داخل ہوکر سب سے پہلاپڑاؤموجودہ ٹیکسلے میں کیا یوں پوٹھوہار کی سرزمین ان کاسب سے پہلامسکن بنا۔کچھ عرصے بعد حضرت ہند پہاڑوں اور میدانوں کو طے کرتے مزید آگے بڑھے اور اس خطے کو اپنے نام کی نسبت سے ہند کانام دیااور حضرت سند نے اپنی نسلوں کے مساکن کو دریائے سند کے ساتھ ساتھ موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ تک پھیلادیایوں یہ دریا اور یہ علاقہ ان کے نام سندھ سے موسوم ہوگیا۔ان کی بودوباش کے عرصے بعد سام اور یافث کی کچھ نسلوں نے آرین کی صورت میں اِدھر کارُ خ کیا۔ اور علاقہ پوٹھوہار میں ہی قیام کیا ۔انہوں نے یہاں کے بسنے والوں پر اپنی برتری جتاتے ہوئے خود کوبرہمن اور یہاں کے قدیم باشندوں کو شودر اور اچھوت قراردے دیا اور چونکہ وہ نمرود کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے نمرود کی حکماً نافذشدہ بت پرستی کو ہمراہ لائے تھے تویہاں اپنی مذہبی روایات میں اس کو شامل کرلیا یہی ہندومت کی ابتداء تھی جس کاآغازبھی پوٹھوہار کی سرزمین سے ہوا۔آرین اور ایرانی چونکہ ایک ہی نسل تھے اس وجہ سے ہندوستان کایہ علاقہ براہِ راست ایرانیوں کے زیراثر چلاگیا اور یہاں شاہانِ ایران ہی کاتسلط قائم رہا۔پوٹھوہار گندھاراکے نام سے ایرانی صوبہ بنارہا ۔ایرانیوں نے اس صوبے کا صدر مقام بھی تیک شیلا موجودہ ٹیکسلاہی بنائے رکھا۔گندھارا ایرانی صوبہ جات میں سب سے زیادہ آمدنی والاصوبہ تھااسی لئے سکندر مقدونی نے ایران پراپنا تسلط قائم کرتے ہی اس کے سونے کا
انڈادینے والی مرغی جیسے صوبے گندھاراپر قبضہ جمانے یہاں آپہنچا۔پھر جب ہندومت کی کوکھ سے بدھ مت نے جنم لیاتواس نے بھی پوٹھوہار میں آکر بڑا عروج حاصل کیا راجہ اشوک اور کنشک اور پھر راجہ ہرش وردھن جیسے بادشاہوں نے ہمارے اس خطے کو پوٹھوہار کانام دے کر اسے مذہبی تقدس بخشا۔اور اس کے شہر ٹیکسلا کو اپنے مذہب کامرکزبنایابدھ مت کی عظیم تعلیمگاہ (یونیورسٹی) قائم کی اورپورے خطہ پوٹھوہارمیں ہرطرف بدھ بھکشوؤں کی خانقاہیں پھیلادیں ۔ راجہ کلہان کی راج ترنگنی کے مطابق جہلم سے لے کر تبت وکشمیر تک ہرطرف بدھ وہار اور بدھ بھکشو نظر آتے تھے۔یہاں بدھ مت کے زمانۂ عروج میں آنے والے چینی سیاح ہیون سانگ نے اس کی پوری تفصیل دی ہے۔یہیں سے بدھ مت چین ،جاپان ،کوریا،برما،سری لنکااور روس میں پھیلا۔راجہ اشوک کی اہمیت کوئی اہل بھارت سے پوچھے ان کے ترنگے جھنڈے میں پہیے کانشان اشوکاچکر کہلاتاہے،اس کا تین شیروں والاشاہی نشان آج بھی بھارت کاقومی نشان ہے ۔ بھارت کے بالخصوص امورمملکت اور سیاست میں استعمال کی جانے والی تمام تر اصطلاحات راجہ اشوک کی تاریخ سے اخذ شدہ ہ ہیں مثلاًوزیر کے لئے منتری ، وزیر اعظم کے لئے پردھان منتری اور پارلیمنٹ کے لئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا وغیرہ ۔
اسلام کی آمد کے بعد خطہ پوٹھوہار کو مسلمان کئے جانے کاسہرا محمود غزنوی کے سر ہے جس نے خواب میں نبی پاک کااشارہ پاکر ہندوستان کے کفروظلمت کے گڑھ کو نوراسلام سے منور کرنے کابیڑااٹھایااور اس عظیم کام کے دوران اپنا مرکز پوٹھوہار کوبنائے رکھا۔اس کے پیش رو شہاب الدین غوری بادشاہ نے تو پوٹھوہار کو ہی اپنی شہادت گاہ بنائے جانے کا اعزاز بخشا۔اس کے بعد تو ترک وتغلق ،بخاری وخلجی اور منگولوں کاایک سیل رواں ہندوستان کی طرف امنڈ آیا جنہوں نے ہندوستان کی وسعتوں میں پھیل جانے کے لئے پوٹھوہار کو ہی اپنی گزرگاہ بنایا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ کون نہیں جانتا ؟کہ تاتاری فتنے کے ہاتھوں جب اسلامی علمی مراکز ثمرقند وبخارا،ترمذ ونیشاپور اور کوفہ وبغداد کوزوال آیا تو وہاں سے تمام علوم کاخزانہ اس بلندی سے پوٹھوہار کی پستی کی طرف بہہ آیا۔انہی تاتاریوں کی ہندوستانی نسلوں کواﷲپاک نے ہندوستان کی عنانِ حکومت ہاتھ میں دے کر ان سے یہاں دینی علوم کی آبیاری کاعمدہ کام لیا۔ان بادشاہان کی ہندوستانی فتوحات کے نتیجے میں یہاں بڑے بڑے علمائے کرام اور اولیائے عظام تشریف لائے اور خطہ پوٹھوہار نے ہی ان کے قدم مبارک چومنے کی سعادت حاصل کرنے میں پہل کی۔
پوٹھوہار کاساراخطہ جغرافیائی طور پر عجیب وغریب نشیب وفراز والاہے یعنی اس کی سطح میں قدرتی خندقیں (گہری کھائیاں) ہیں جواسے دفاعی لحاظ سے ناقابل تسخیر بناتی ہیں یہ سیرت النبی ؐ میں سے غزوۂ خندق کی عمدہ مثال ہیں کہ جس میں حضرت نبی ﷺ نے اپنے محب حضرت سلمان فارسیث کے مشورہ سے مدینہ پاک کے دفاع کے لئے خندق کھودی تھی ۔وہی دفاعی کیفیت خطہ پوٹھوہار کو قدرتی طور پر میسر ہے۔پھر اس علاقے میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت ماضی میں بھی مختلف لشکروں کاحصہ رہی اور اب بھی افواج پاکستان کاوافر حصہ اسی علاقے سے متعلق ہے۔اسی قدرتی دفاعی استحکام کی بناء پر پاکستان کا دار الحکومت اور اٹامک ہیڈکوارٹر بھی خطہ پوٹھوہار میں بنایاگیاہے۔یہ نہ صرف پاکستان بلکہ جمیع عالم اسلام کے لئے دشمنان اسلام سے دفاع کے باعث ہے ۔ سنن ابی داو‘د میں مذکور اس حدیث میں بھی اسی طرف اشارہ موجود ہے۔
حدثنا موسےٰ بن اسمٰعیل نا حماد انابرد ابوالعلاعن مکحول ان رسول اﷲ ﷺ قال موضع فسطاط المسلمین فی الملاحم ارض یقال لھا الغوطہ
گو محدثین کے نزدیک الغوطہ دمشق کے گردونواح کاعلاقہ ہے مگر موجودہ عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں دمشق کے غوطے کو وہ حیثیت حاصل نہ ہوئی جو پاکستان کے علاقہ پوٹھوہار میں موجود کہوٹہ کو حاصل ہوئی اس لئے ہمارے نزدیک الغوطہ ۔۔ہماراکہوٹہ ہے ۔جس کی متعلقہ فوج بھی دنیا کی اعلٰی ترین فوج ثابت ہوچکی ہے۔
آخر میں اربابِ اقتدار سے گذارش ہے کہ خطہ پوٹھوہار کو پاکستان کے اندر ایک امتیازی حیثیت دی جائے اسے پاکستان کاصوبہ نہیں تواس کے اندر موجوداسلام آباد کے فیڈرل ایریا کو پورے پوٹھوہار کی حدود جو اٹک ،راولپنڈی ،چکوال اور جہلم کے اضلاع پر محیط ہے یعنی ڈویژن راولپنڈی یاراولپنڈی کمشنری تک پھیلادیاجائے۔

پوٹھوہار (قاضی عبدالرحمٰن فاروقی 0324-3090786  

ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی کسی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share.

Comments are closed.

error: